افسانہ ۔۔۔ خطوں میں مخفی محبت

پیووف آفیشل
0


ازقلم : ارشد ابرار ارشد 

آپ کسی ایسے انسان کی کیفیات سے یقیناً انجان ہوں گے جسے ہر روز صبح آنکھیں کھولتے ہی اپنے داٸرہِ شناساٸی کا ناپسندیدہ ترین چہرہ دیکھنے کو ملے ۔

 میں گزشتہ پچیس سال اور تین ماہ سے اسی تلخ و ترش زندگی کو گزار رہا ہوں 

یہ چہرہ ; دنیا میں پہلی قلقاری بھرتے ہی میرے کانوں میں اولین اذان پھونکنے والے ، میرے اَن داتا اور میرے پالنہار میرے والد کا چہرہ ہے

میں نے وہ عمومی پدرانہ شفقت کبھی وصول ہی نہیں کی جو اس رشتے کا خاصہ ہوتی ہے ۔ 

شاید یہی سبب ہے کہ باوجود کوشش، میں اپنے رویے کی تُرشی اور اعصابی تناٶ کو شکست نہیں دے پایا ۔ 


جیون جوگ کا روگ بھوگ کر جو اِنسان اپنے لبوں پر مصنوعی مسکراہٹ کا اشتہار چِپکا لیتا ہے وہ یقیناً اِس جھوٹی و عیار دنیا کا سب سے بڑا مکار ہوتا ہے یا پھر اول درجہ کا اداکار ۔ لوگ ہوتے ہوں گے میں نہیں ہوں۔


قرب و جوار کے تمام خداٸی فوجدار اور فلاحی ٹھیکیدار ہمارے اِس باہمی رشتے میں تناٶ کا سبب صرف اور صرف مجھے ٹھہراتے ہیں اور عموماً مجھے ”ناخلف و ناہنجار اولاد ، نافرمان اور نالاٸق کپوت “ جیسے تمغات سے بھی نوازتے رہتے ہیں اور میں بصد خوشی یہ القابات اپنا حق سمجھ کر وصول کر لیتا ہوں ۔


اپنے ایام طفولیت سے ہی میں نے ہر دفعہ اپنی طرف بڑھی ہوٸی میرے باپ کی انگلی تھامنے کی بجاۓ ، جھٹک دی۔ 

آج تک والد کے کندھے پر بیٹھ کر دنیا کو نہیں دیکھا 

جس شخص کا دل میری ماں کی محبت سے خالی رہا ہو میں اُس دل میں اپنی محبت کی آبیاری کیونکر کروں ۔۔۔؟ 


میری ماں جو ڈھاٸی سال تک اس شخص کی زوجیت میں رہی اور مجھے اِس دنیا میں لانے کی تگ و دو میں جانبر نہ ہو سکی ، پورے ڈھاٸی برس اپنے مجازیِ خدا کی محبت کو ترستی رہی مگر یہ شخص اپنے زمانہِ شباب کے عشق کی سرمستی میں مگن رہا اور اپنی اولین محبت کی سحر انگیزی میں اس قدر مدہوش رہا کہ اپنی شریکِ حیات کو ہمیشہ ایک نگاہِ محبت  سے بھی محروم رکھا ۔


میرے ہوش سنبھالنے کے بعد ، انہوں نے ان گنت بار اپنی ذات کی سچاٸی اور وفا شعاری کے جھوٹے سچے قصے میرے کانوں میں پھونکے لیکن میں نے بھی دانستہ

 مہرِ یقین ثبت نہ کر کے اُسے قلبی تسکین سے ہمیشہ محروم رکھا ۔ 

یہ ایک طرح سے میرا پسرانہ انتقام تھا جو میں گزرے برسوں میں اپنی والدہ کی روح کیلیے لیتا رہا ۔ 


اس نفرت و عناد کے باوجود بھی ہم دونوں ایک ہی چھت تلے رات بسر کرتے ہیں اور ایک ہی چار دیواری کو اپنا گھر کرتے رہے ہیں۔

وہ میرے لیے رزق کما کر لاتے اور میں اپنا پیداٸشی حق سمجھ کر وصول کرتا ۔ 

والد مجھے ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز مہیا کرتے اور میں نخوت سے قبول کر کے معمول کی زندگی کرتا ۔ 

اس سب کے باوجود بھی وہ میرے دل میں اپنے لیے اٹھی ہوٸی دیوارِ نفرت کی ایک اینٹ تک نہ گرا پاۓ ۔


ایک رات حسبِ عادت بعد از مطالعہ وہ اپنی کتاب رکھ کر سوۓ تو پھر بوقتِ سحر جاگ ہی نہ پاۓ اور چپ چاپ ابدی نیند سو گٸے 

عین ممکن ہے اس دنیا میں اُن کی آمد پُرشور رہی ہو گی مگر واپسی بالکل چپ چاپ تھی ۔ جیسے کوٸی اضافی اور خاموش طبع شخص محفل سے چپ چاپ اٹھ کر اندھیرے میں کہیں گم ہو جاۓ ۔

وہ مٹی اوڑھ کے زمین کا پیوند ہو گٸے اور میری تمام تر نفرت ماں کے پہلو میں بنی مٹی کی اُس ڈھیری نے جذب کر لی جس کے اندر وہ جا سموۓ تھے ۔ 


اب میں تنہا اس چار دیواری کا کُل مالک و مختار ہوں اور مجھے اُس شخص سے نجات مل چکی ہے جس کیلیے میرا سفالِ قلب ہمہ وقت نفرت سے لبریز رہتا تھا ۔ 

مگر عجیب تر بات یہ ہے کہ اب یہ عالی شان گھر اور یہ دیوار و در مجھے اپنے اندر دھنسانے کی تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں ۔ 

رات پڑتے ہی دو ساۓ میری سراندھی آ بیٹھتے ہیں ، میرے چہرے کو تکتے رہتے ہیں ، میرے بالوں میں انگلیاں کرتے رہتے ہیں اور میں خوف سے اپنی آنکھیں بند کیے رکھتا ہوں ۔

میں جس تنہاٸی کا خواہاں تھا وہی تنہاٸی اب میری جان کے درپے ہے ۔ 

گھر میں بات کرنے کو صرف ایک بیمار گھوڑا ہے جو اب بیمار و لاچار ہو چلا ہے ،چند درخت ہیں اور مجھے درختوں کی زبان سے آشناٸی نہیں ہے ۔

کتابوں کا ایک انبوہِ کثیر ہے جنہیں والد سے نسبت ہونے کے سبب میں نے عمر بھر کھول کر نہیں دیکھا تھا پر اب تنہاٸی کاٹنے کو یہ عارضی سہارا ضروری ہو چلا ہے

ایسے ہی ایک خاموشی بھرے دن وقت گزاری کو کتابوں کی گرد چھانٹ رہا تھا جب مجھے وہاں کتابوں کے بیچ میرے نام لکھا ہوا ایک نوشتہ ملا ۔


" اے میرے گوشہ جگر 

جب تم میرے خط کی یہ سطور پڑھو گے تو عین ممکن ہے کہ زمین پر سانس لیتے لوگوں کی فہرست سے میرا نام مٹ چکا ہو ۔ 

سنو میرے اچھے بیٹے ۔۔۔ 

ہر والد کی طرح میری بھی یہی خواہش ہے کہ تمہارے قصیدے ہوائیں لکھیں اور آنے والے مورخ تمہارا نام نافع لوگوں کے ساتھ جوڑیں ۔ ۔ ۔ 


میرے بیٹے۔۔۔

اب جب کہ تم وقت کے ساتھ اپنی عمر کی زینے چڑھ رہے ہو تو دستور مطابق یقیناً تمہیں بھی آگے چل کے بہت کچھ دیکھنا ، سننا ، سیکھنا اور کرنا ہے ۔ 

اور اب جب زندگی کی اداۓ بے وفاٸی کے طفیل تمہیں میرا ساتھ بھی میسر نہیں ہے تو میری جگہ ”وقت“ تمہیں کٸی اسباق پڑھائے گا۔

 اس لیے وقت کو اپنا سب سے بڑا معلم مان لینا ۔ 


یہ معلم مزاجاً سخت گیر ہے مگر تمہاری فلاح اور بہتری اسی میں ہے کہ تم کس قدر جلد اپنے استاد کے دیئے گئے اسباق ذہن نشین کرتے ہو اور اپنے معلم سے کیا کچھ حاصل کرتے ہو ۔ 

چونکہ یہ  معلم بے زبان بھی ہے اس لیئے تمہیں تجربات ، اشاروں اور رویوں کی زبان پر دسترس حاصل کرنی ہوگی ۔ ورنہ دوسری صورت میں ٹھوکریں تمہارا مقدر بن سکتی ہیں ۔ اور میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ میرے بعد، میرا بیٹا کبھی ایک پل کیلئے بھی رنجیدہ ہو ۔


پیارے بیٹے۔۔۔

 تمہیں کہی سُنی ہوٸی باتوں سے قطع نظر اپنے باپ پر یقین کرنا ہوگا کہ وہ ہمیشہ تمہاری ماں کے ساتھ ایک اچھے شوہر کی طرح مخلص رہا ہے اور یہ معجزہ میری زندگی میں ہونا چاہیے تھا جو نہیں ہو پایا ۔

 تمہارے دل میں میرے لیے انڈیلی گٸی نفرت نے ہمیشہ میرا دل دو دھاری تلوار تلے رکھا اور میری روح عمر بھر  نیم جاں مرغ بسمل کی طرح ترپٹی رہی مگر تم انجان رہے۔

میں ، ہمارے درمیان اس پچیس سالہ طویل مگر یکطرفہ زود رنجی کے باوجود بھی تم سے کبھی رنجیدہ نہیں رہا ۔ مجھے یقین ہے ایک دن یہ تمام کثافتیں دُھل جاٸیں گی 

اور

 تم ماضی میں گزرے ہر اک لمحے کو یاد کر کے کبیدہ خاطر رہا کرو گے ۔۔۔۔ تب بھی ۔۔۔ میرے وجود کے ٹکڑے ، ایک والد ہونے کے ناطے تب بھی میرا ہی دل تمہارے اس رنج پر افسردہ رہے گا ۔ 

یہ گھر اور اب اس گھر کا ہر اک تِنکا تک تمہارا ہے لیکن میں تمہارے لیے اپنا سب سے بڑا اثاثہ اپنی تمام کتابیں چھوڑے جا رہا ہوں کہ میرے بعد تمہیں ان کتابوں کے پنوں میں پناہ ملے گی ۔


میرے اچھے بیٹے ۔۔۔ اب سنو

تمہارے کرنے کیلئے ایک کام چھوڑ رہا ہوں ۔

کام بھاری ضرور ہے لیکن اپنی زندگی کے  باقی اہم کاموں کی طرح اسے بھی ضروری جاننا ۔ 

سنو ۔۔۔ جب تم اپنے فہم کی بلوغت کو پالو اور تمہیں ادراک ہونے لگے کہ اب تم داستانیں پڑھنے کے اہل ہو چکے ہو 

تو تب تمہیں ایک سفر اختیار کرنا ہوگا ۔

 یاد رکھنا یہ سفر صرف میرے لیئے ہوگا تمہارے گزر چکے باپ کیلئے ۔ 

اے میری روح کے حصے ۔۔۔ 

یہ سفر ہرگز آسان نہیں ہوگا ، اس لیئے سفر کی مشکلات سے  گھبرانا مت اور سفر جاری رکھنا ۔ 

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ سفر انسان کو بہت کچھ نیا سکھاتے ہیں ۔ مجھے یقین ہے یہ سفر بھی تمہارے لیے ضرور کچھ سیکھنے کا سبب بنے گا ۔ 

تمہیں مغرب میں سنگلاخ پہاڑوں کی سمت جانا ہوگا ۔ 

میرا بوڑھا سفید گھوڑا اس سفر میں تمہاری راہنمائی کرے گا کہ وہ ان راستوں سے بخوبی واقف ہے ۔

 میرا سفید گھوڑا نہ صرف تمہاری تھکن کم کرنے میں مددگار بنے گا بلکہ وہ ایک راہ رو کے فرائض بھی انجام دے گا ۔ 

۔

مغربی سمت، چار دن کے مسلسل سفر کے بعد کالے سنگلاخ پہاڑوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ 

وہیں دو پہاڑوں کے بیچوں بیچ گھاٹی میں ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہے ۔ 

گاؤں کی داخلی حدود پر تمہیں ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنا نظر آئے گا ، نشانیاں یاد رکھنا جھونپڑے کی کھڑکی یا درز میں کہیں نہ کہیں ایک دیا جل رہا ہو گا اور جھونپڑے کے پاس شفاف پانیوں کا ایک ٹھنڈا پہاڑی چشمہ بھی بہہ رہا ہو گا ۔ 

پیارے بیٹے ۔۔۔

وہ بوسیدہ جھونپڑا میری بیوہ کا ہے ۔  حیران مت ہو بیٹے ہاں ۔۔۔ وہ جھونپڑہ میری بیوہ کا ہی ہے 

تمہیں وہاں پہنچ کے میری بیوہ سے ملنا ہے ۔ 

 کچھ بھی پوچھے بغیر اس کے کتابی چہرے پر رقم ایک کہانی پڑھنی ہے 

 اور اسے یہ سندیسہ دینا ہے کہ " اب فاتحہ بھی پڑھ لے اور دیئے کو ایک ہی پھونک سے بجھا ڈالے " 

۔

ممکن ہے تمہیں وہاں میری کوئی علامتی قبر بھی نظر آجائے ۔ ایسی صورت میں تم بھی میری بیوہ کے ساتھ میری قبر پر فاتحہ پڑھ لینا ۔ 


میری ذات کا عکس ۔۔۔ میرے بیٹے

اب تم یہ سوچ رہے ہو گے کہ تمہاری ماں تو سالوں پہلے مٹی اوڑھ چکی ہے تو وہاں جھونپڑے میں کوئی عورت بیوگی کا عصاء تھامے کیونکر منتظر ہو گی اور میں یہاں شہر کے قبرستان میں مقبور ہوں تو وہاں دور پہاڑوں میں میری قبر کا بھلا کیا سوال ۔۔۔۔؟ 

۔

اچھے بیٹے ۔۔۔ تمہیں پہلے نصیحت کر چکا ہوں کہ یہ سفر تم نے تب اختیار کرنا ہے جب تم اپنے فہم کی بلوغت پالو اور کہانیاں پڑھنے کے اہل ہو جاؤ ۔۔۔

تب یقیناً تمہیں اپنے دونوں سوالوں کا جواب ضرور مل جائے گا 

۔

اس دعا کے ساتھ اختتام کرتا ہوں کہ 

میرے جان سے پیارے بیٹے تم ہمیشہ سر بلند رہو ۔۔۔ تمہاری روح کبھی رنجیدہ نہ رہے

                                                 تمہارا والد ۔  ۔  ۔ “


ایک شخص جسے جیتے جی عمر بھر میں نے محبت کے عوض ماسواۓ انتقام اور نفرت کے ، کچھ بھی نہ دیا ۔ 

بعد از مرگ میں نے کاغذ کے ایک حقیر ٹکڑے پر رقم اُس کی چند سطور پڑھ کر ایک انجان سفر کا مسافر ہونے کی ٹھان لی ۔ ایک موت نے میرے دل کی وہ تمام دراڑیں بھر دیں جو میرے باپ کی زندگی نہ بھر سکی۔


” بہت احترام کے ساتھ 

 بابا جان ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی روح وہاں بہت اوپر نیک صالح لوگوں کی صحبت میں ہو گی ۔ 


میں آپ کا نافرمان بیٹا ۔۔۔ سب سے پہلے اپنے ہر اُس رویٸے اور قول و فعل کیلیے معافی کا طالب ہوں جس سے عمر بھر آپ کا دل دُکھ کی آماجگاہ بنا رہا اور مجھے یقین ہے آپ ہمیشہ کی طرح اپنے اس ناخلف بیٹے کو دل سے معاف بھی کر دیں گے ۔

۔

 

بابا ۔۔۔ آپ کے جانے کے چند دن بعد ہی میں نے آپ کی الماری میں رکھی پرانی بوسیدہ ڈائری میں اپنے نام لکھا گیا آپ کا خط  پڑھ لیا تھا ۔ 

خط اور ڈائری میں آپ کی وہی خوشبو رچی ہوئی تھی جو مجھے ہمیشہ آپ کی قربت میں محسوس ہوتی تھی مگر میں اظہار سے اجتناب کرتا تھا۔

 اب آپ کی باقی تمام یادوں اور کتابوں کی طرح ، میرے پاس آپ کی ڈائری بھی محفوظ ہے ۔ 


خط میرے نام تھا ، ڈائری آپ کی بیوہ کے نام۔

 مگر میں خود کو وہ بوسیدہ اور کٹی پھٹی پرانی ڈائری پڑھنے سے بھی نہیں روک پایا ۔۔۔  اس بے ایمانی کے لیئے معافی کا طلب گار ہوں اور ایک بار پھر پر امید ہوں کہ آپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ کی طرح ضرور معاف کر دیں گے ۔ 

۔

بابا جان ۔۔۔ آپ کا حکم نامہ پڑھنے کے چار سال بعد تک میں اس پہاڑی سفر بارے سوچتا ، ارادے باندھتا اور توڑتا رہا ۔ سفر کا قصد کرتا پھر نہ جانے کیوں خود ہی ترک کر دیتا ۔ 

بابا آج آپ کو جدا ہوئے چار سال کا عرصہ بیت گیا ہے ۔  

مگر گزرے چار سال میں خود اذیتی اور پچھتاوے کے جس پُل صراط سے گزرتا رہا ہوں وہ احوال سنا کر آپ کی روح کو  ہرگز مبتلاۓ دکھ نہیں کرنا چاہتا ۔ 

آپ کے بعد میں نے آپ کی قربت  کتابوں میں ڈھونڈ لی اور اپنا ہر دکھ کتابوں کو کہنا شروع کر دیا ۔


۔ بابا ۔۔۔

میں نے اپنے سخت گیر معلم سے بھی بہت کچھ سیکھ لیا۔ عجب مزاج معلم ہے دھکا پہلے دیتا تھا سبق بعد میں ۔۔۔ طمانچہ پہلے مارتا ہے تھپکی آخر میں ۔ 

لیکن خوش کن بات یہ ہے کہ اب سارے اسباق مجھے ازبر ہوگئے ہیں  ۔ 

۔

اب جب کہ میرا قد آپ کے برابر پہنچ چکا ہے لیکن نہیں شاید آپ سے تھوڑا سا کم ہی ہوگا ، اور جب مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے شعور کے کچھ زینے چڑھ چکا ہوں اور داستانیں پڑھنے کا اہل ہو چکا ہوں تو دو ہفتے پہلے میں نے ان سنگلاخ پہاڑوں کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا ۔ 

۔

لیکن صد افسوس کہ اس سفر میں آپ کا سفید گھوڑا میرا ساتھی نہیں تھا ۔ 

رنج کے ساتھ آپ کو بتا دوں کے آپ کے چند ماہ بعد ہی آپ کے سفید گھوڑے نے بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر اپنی آنکھیں ہمیشہ کیلئے موند لیں ۔

ہمہ وقت بہت اداس اور مغموم رہتا تھا آپ کے بعد ۔ 

حیرت ہے کہ میں آپ کی جدائی سہہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ شاید وہ آپ کا غم نہیں سہار پایا ۔۔۔

 

اس سفر کا ساتھی میرا سفید گھوڑا تھا ۔ چونکہ ہم دونوں پہاڑی راستوں سے بالکل اجنبی تھے سو ہمارا سفر مزید طوالت پکڑ گیا اور ہم نے چار کی بجائے چھ دن مسافری کاٹی۔

یہ سفر واقعی سہل نہیں تھا  ۔ 

۔

بابا جان ۔۔۔ 

چھ دن بعد ہم شام ڈھلے سنگلاخ پہاڑوں میں گھرے اس گاؤں تک جا پہنچے ۔

 گاؤں کی داخلی سرحد پر ہی ایک خستہ حال جھونپڑے نے ہمارا استقبال کیا ۔ مجھے شناخت میں زرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوٸی کہ وہاں طاقچے میں ایک دیا جل رہا تھا ۔

اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا تو صدیوں پرانی روپہلی صورت والی بوڑھی عورت بڑے بڑے لفظوں والا قرآن مجید پڑھتی نظر آئی ۔ 

ہم متعارف ہوۓ تو انہوں نے مجھے ایک جنبش سے اپنے اندر بھینچ لیا ، دیر تلک میرے چہرے کے بوسے لیتی رہیں ، اپنے خشک ہونٹوں سے میری آنکھیں اور پیشانی چومتی رہیں ، بار بار میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر جانے کیا محسوس کرتی تھیں وہ ۔ 

مجھ سے میرے سفر اور امی جان کا احوال پوچھا ، مجھے وہاں جھونپڑے میں بٹھا کر پاس بہتے پہاڑی چشمے سے ٹھنڈے پانی کا کٹورا بھی بھر لائیں ۔ 


چشمے کا پانی  ٹھنڈا اور شیریں تھا مجھے یقین ہے اس پہاڑی گاؤں کے باقی لوگ بھی چشمے کے پانی اور آپ کی بوڑھی بیوہ جیسے میٹھے اور مخلص ہوں گے ۔

کتابی چہرے والی وہ بوڑھی عورت امی جان کا سن کر اداس ضرور ہو گئیں ، مگر بابا ایک بار بھی ان کی نوکِ زبان پر آپ کا نام تک نہیں آیا ۔۔۔ 

۔

اور جب میں نے آپ کا پیغام سنایا تو وہ وہیں مر گئیں، نہیں بلکہ وہ زندہ تھیں جانے کیوں مجھے ایسے لگا جیسے وہ مر گئی ہوں ۔

 اس معمر عورت کے متبسم لب باہم پیوست ہو گئے اور اندر دھنسی ہوئی آنکھوں سے دو قطرے ٹوٹ کر گرے جو ان کے پیاسے دامن نے پی لیے ۔ 

وہ کتنی ہی دیر بے حس و حرکت چپ چاپ بیٹھی رہیں جیسے کسی نے ان کی قوتِ گویائی سلب کر لی ہو ۔

وہ شاید کسی اور دنیا میں چلی گٸی تھیں تو میں انہیں کندھے سے جھنجھوڑ کر جھونپڑے میں واپس لایا۔ 

۔

پھر وہ اٹھیں ، غیر متوازن اور ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے چلتی ہوئی دیئے تک پہنچیں اور ایک ہی پھونک سے وہ ٹمٹماتا ہوا دیا بجھا دیا ۔ 

۔

بابا ۔۔۔ ہمارے پاس بولنے کیلئے اب کچھ بھی نہیں تھا سو ہم دونوں کتنی ہی دیر چپ چاپ بیٹھے رہے ،میں نے فرصت کے اس دورانیے میں ان کے کتابی چہرے پر لکھی داستان پڑھ لی ۔ ہاں بابا میں اب ساری کہانی جان گیا ہوں ۔ 


 میں نے اس بوڑھی عورت ، جھونپڑے اور دیے کے علاوہ بھی وہاں بہت کچھ محسوس کیا ۔ بابا یہ وہ احساسات تھے جنہیں میں الفاظ کے ملبوسات دے کر بے وقعت نہیں کرنا چاہتا کہ میں انہیں بیاں کرنے سے قاصر ہوں ۔

 پھر میں اٹھ کے وہاں آپ کی قبر تلاشنے لگا ۔ 

لیکن بابا وہاں آپ کی کوئی قبر مجھے نظر نہیں آئی نہ اندر اور نہ ہی جھونپڑے کے باہر کہیں ۔ 

میری متلاشی نگاہوں کو آپ کی بوڑھی بیوہ بھانپ گئیں اور بتایا کہ مجھے آپ کی قبر کہیں نہیں ملے گی کیونکہ وہ انہوں نے اپنے دل میں بنا رکھی ہے ۔


بابا میں واپسی کیلئے گھوڑے پر بیٹھا اور اُس پہاڑی گاؤں کی سرحد پار کر آیا مگر دو بوڑھی مںتظر آنکھیں دور تک مجھے اپنی پشت پر چھبتی رہیں ۔ 

اور ہاں مجھے میرے دونوں سوالوں کے جواب بھی مل گئے ہیں لیکن میں اب گو مگو کی کیفیت میں مبتلا ہوں ، میں فرق نہیں کر پا رہا کہ میں خوش ہوں یا افسردہ ۔۔۔ 

۔

بابا جان ۔۔۔دو ہفتوں بعد، میں نے آج پھر اپنا رختِ سفر باندھ لیا ہے ۔ 

اب جب میں یہاں تنہا جی رہا ہوں اور وہاں دور پہاڑوں میں آپ کی بوڑھی بن بیاہی بیوہ کا بھی یہی قصہ ہے ۔

 تو میں نے آپ کی بیوہ کے ساتھ ہمیشہ رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

 باہر میرا گھوڑا میرا منتظر کھڑا بار بار مجھے بلا رہا ہے شاید اسے بھی آپ کی بیوہ سے محبت ہو گئی ہے ۔ 


یہ خط مکمل کر کے میں آپ سے ملنے آؤں گا ، پھر فاتحہ پڑھ کے مجھے دور سنگلاخ پہاڑوں کے سفر پر نکلنا ہوگا ، آپ کی بن بیاہی بوڑھی بیوہ کے پاس

   ۔

خدا آپ کی روح کو ہمیشگی کی راحت نصیب کرے ۔ آمین 

                                 آپ کا بیٹا 

         جو آج سے آپ کی بیوہ کا بھی بیٹا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default