اردو افسانہ نگاری پر مختلف تجربات میں سے ایک صورت منی افسانہ کی بھی ہے۔ جسے اور بھی ناموں سے پکارا گیا۔ بہت سے ادیبوں نے اس پر طبع آزمائی کی۔ اس کی ہییت مختصر ہوتی ہے لیکن اس میں بیان کردہ فکر کسی مکمل طویل افسانہ سے کم نہیں، منی افسانوں پر طبع آزمائی کرتے ہوئے دیگر لکھاریوں کی طرح ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اس صدی کے نامور ادیب ”نذیر فتح پوری صاحب“ نے بھی بہت سے منی افسانے تحریر کیے۔ ان کے منی افسانوں کا پہلا مجموعہ ”ریزہ ریزہ دل“ کے عنوان سے ۲۰۰۵ء میں ”بھارت پرنٹنگ پریس، پونہ“ سے شائع ہوکر منظرِ عام پر آیا۔ جس میں کُل ۹۸ منی افسانے ہیں جو ہییت کے اعتبار سے ایک صفحہ سے بھی کم کی طوالت میں ہیں۔ لیکن اگر ان کے مطالعہ کے بعد ان کی فکر پر غور کیا جائے تو ہر افسانچہ اپنے اندر ایک گہری معنویت سموئے ہوئے ہے۔ مجموعہ کُل ۱۱۲ صفحات پر مشتمل ہے جس کی قیمت ہندوستانی ۱۰۰/= روپے ہے۔ کتاب کے متعلق درج معلومات سے اگلے صفحے پر انتساب درج ہے جو مصنف نے ”سیاہ حاشیے“ کے خالق کے نام کیا ہے۔ افسانچوں کی شروعات سے قبل مجموعہ میں تین مضامین کو جگہ دی گئی ہے۔ جس میں سے پہلا مضمون ”عظیم راہی“ کا ہے جن کی بدولت یہ مجموعہ شائع ہوا کیونکہ نذیر صاحب کے افسانچے انھوں نے مرتب کیے ہیں۔ دوسرا مضمون ”ڈاکٹر اسلم جمشید پوری“ کا ہے جس میں انھوں نے منی افسانہ نگاری کے ارتقاء پر روشنی ڈالنے کی سعی کی ہے۔ جبکہ تیسرا مضمون خود مصنف کا ہے جس میں انھوں نے اپنے ادبی سفر کو بیان کیا اور اپنے قارئین کو ادب کے متعلق چند باتیں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
نذیر صاحب کی کتب یہاں ملنا ذرا دشوار ہے اسی لیے ان کی مذکورہ کتاب بھی موبائل سے ہی زیرِ مطالعہ رہی۔ کتاب کا سرورق نہایت ہی سادہ سا ہے۔ پہلے صفحے پر کتاب کے نام کے ساتھ کتاب کا اشاعت نمبر بھی درج ہے۔ مصنف کی اس کتاب سے قبل مختلف موضوعات پر ۲۶ کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔ جب کہ اب تک نذیر صاحب کی کتب کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ نذیر فتح پوری کے افسانوں میں مختلف موضوعات کو نہایت ہی چابک دستی سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ نذیر صاحب کا کمال ہے کہ وہ اپنے ارد گرد پھیلی کہانیوں اور کرداروں کو احسن انداز میں اپنے قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ آپ کے اس مجموعہ میں شامل افسانچہ ”نجات“ پاک و ہند کی تلخ حقیقت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے جس میں ایک بیٹی جہیز کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے والدین کا بوجھ کم کرنے کے لیے گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ ایک کہانی نہیں بلکہ نذیر صاحب کے ہر افسانچہ میں ہمارے معاشرے کے بہت سے ناسور بیان کیے گئے ہیں۔ یہ مجموعہ ہمارے ہی معاشرے کے نچلی ذاتی کے لوگوں کا مقدمہ ہے۔ جس میں ہمارے ارد گرد کے لوگوں کا دوغلا پن واضح دیکھنے کو ملتا ہے۔ کتاب کے مطالعہ کے دوران اکثر افسانچے ایسے معلوم ہوئے جیسے مختلف کہاوتوں کو عملی طور بیان کردیا گیا ہو۔ جیسے ایک کاروبار کے دو حصہ داروں کی آپسی چپقلش سے تیسرے کا فایدہ۔ افسانچہ ”دھوپ اور چھاؤں“ میں سیاست دانوں کے ساتھ ہونے والے دھوکے کو قلم بند کیا گیا ہے کہ ایک رکن کو دورانِ حکومت کیسے عوام پوجتی ہے اور بعد میں کوئی اس کی طرف رخ بھی نہیں کرتا۔ یہاں مصنف نے کہانی کی صورت بتا دیا ہے کہ ”کبھی کی راتیں چھوٹی کبھی کے دن بڑے“۔
مجموعی طور پر نذیر صاحب کی مذکورہ تخلیق ان کی فنی اور فکری حیثیت کا واضح عکس ہے۔ جو ان کی دیگر تحریروں میں بھی نظر آتا ہے۔ منی افسانے پر اس قدر کام نہ ہوسکا لیکن اس صنف پر طبع آزمائی کرنے والوں میں نذیر فتح پوری کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔
مبصر: محمد ہمایوں قائم خانی

