اٹھارہ برس بعد اپنی ماں سے ملنے والی بچی کی ناقابلِ فراموش حقیقی داستان

پیووف آفیشل
0

 

نجلہ کو جس بے اولاد جوڑے کے سپرد کیا گیا، انہوں نے اسے اپنی حقیقی بیٹی کی طرح محبت، شفقت اور بہترین تربیت دی۔ انہوں نے اس کی تعلیم و پرورش میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے، لیکن نجلہ نے اپنی دلچسپی کے مطابق دینی تعلیم کا انتخاب کیا۔ وہ عالمہ بنی، عربی زبان کے مختلف کورسز مکمل کیے اور بعد ازاں تدریس و علمی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئی۔ یہ سب اس نیک دلی اور انسان دوستی کا تسلسل تھا، جس کی ابتدا قاری بشیر کے ایک چھوٹے مگر عظیم عمل سے ہوئی۔ سن 2008 میں کراچی کے علاقے کورنگی سے چار سالہ نجلہ اپنی والدہ کے ساتھ نیو کراچی میں اپنے چچا کے گھر آئی ہوئی تھی۔ گرمی کا دن تھا، گھر میں رشتہ دار موجود تھے۔ بچی نے ضد کی کہ باہر سے کچھ خریدنا ہے۔ چند سکے ملے اور وہ گھر سے نکل گئی۔ واپسی پر مسئلہ صرف یہ تھا کہ گلی کے تقریباً تمام دروازے ایک جیسے تھے۔ وہ اپنے چچا کا گھر پہچان نہ سکی۔ ایک گلی سے دوسری گلی، ایک راستے سے دوسرے راستے تک چلتے چلتے وہ اپنی منزل سے اتنی دور نکل گئی کہ اس کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔ اسی دوران ایک شخص، قاری بشیر، کی نظر اس ننھی بچی پر پڑی۔ زبان مختلف ہونے کی وجہ سے وہ اپنا تعارف نہ کرا سکی۔ قاری بشیر نے اسے چند روز اپنے پاس محفوظ رکھا، اس کی تصویر بنوائی، لوگوں سے پوچھ گچھ کی اور ہر ممکن کوشش کی کہ اس کے والدین تک پہنچا جا سکے، مگر کوئی کامیابی نہ ملی۔ بعد ازاں کراچی کی شادمان یونین کونسل کے ذریعے اسے ایک بے اولاد جوڑے کے سپرد کر دیا گیا۔ اس جوڑے نے نجلہ کو اپنی حقیقی بیٹی سے بڑھ کر محبت دی۔ اسے تعلیم دلوائی، بہترین تربیت کی اور کبھی یہ احساس نہ ہونے دیا کہ وہ ان کی اپنی اولاد نہیں۔ یہاں تک کہ قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو بھی برسوں تک حقیقت کا علم نہ ہو سکا۔ مگر محبت کے باوجود ایک خلا ایسا تھا جو کبھی مکمل طور پر پُر نہ ہو سکا۔ ابتدائی ایک برس تک نجلہ روز اپنی ماں، والد اور بہن بھائیوں کو یاد کر کے روتی رہی۔ وقت کے ساتھ یادیں دھندلی ضرور ہو گئیں، مگر مٹ نہ سکیں۔ اس نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی۔ گھر والوں کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے، لیکن اس نے دینی تعلیم کو ترجیح دی۔ وہ عالمہ بنی، عربی زبان کی تعلیم حاصل کی اور تدریسی خدمات سے وابستہ ہو گئی۔ پھر 2024 میں اس کی زندگی نے ایک نیا موڑ لیا۔ مسلسل ڈراؤنے خواب، بے چینی اور بچپن کی ٹوٹی پھوٹی یادیں اسے اسی گمشدگی والے دن کی طرف لے جانے لگیں۔ وہ ایک ماہرِ نفسیات کے پاس گئی۔ ڈاکٹر نے دوا لکھنے کے بجائے صرف ایک نام لکھا: "ولی اللہ معروف"۔ نجلہ نے پہلے سمجھا کہ شاید کسی بزرگ کا نام ہے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ وہ شخصیت ہیں جو برسوں سے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملانے کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ دو ماہ تک اس نے خاموشی سے ان کے کام کا مشاہدہ کیا، پھر فروری 2025 میں ان سے رابطہ کیا اور اپنی مختصر مگر درد بھری داستان سنائی۔ اسے صرف اتنا یاد تھا کہ وہ چار یا پانچ برس کی تھی، کسی رشتہ دار کے گھر آئی تھی، راستہ بھول گئی تھی، گھر کے سامنے قبرستان تھا اور صحن میں تورئی کی بیل لگی ہوئی تھی۔ باقی سب کچھ دھندلا چکا تھا۔

5 فروری 2025 کو ولی اللہ معروف نے اس کی کہانی سوشل میڈیا پر شائع کی۔ یہ اپیل غیر معمولی طور پر وائرل ہوئی۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی ہزاروں افراد نے اسے شیئر کیا۔ کئی خاندانوں نے رابطہ کیا اور چار خاندان ایسے بھی سامنے آئے جنہیں یقین تھا کہ شاید نجلہ ہی ان کی گمشدہ بیٹی ہے، مگر ہر مرتبہ ڈی این اے ٹیسٹ منفی آیا۔ تقریباً ڈیڑھ برس بعد، 30 جون 2026 کو، ولی اللہ معروف نے ایک بار پھر وہی اپیل شائع کی۔ اس مرتبہ کراچی کے علاقے کورنگی سے ایک خاندان نے رابطہ کیا۔ انہوں نے ایسی تفصیلات بیان کیں جو نجلہ کی دھندلی یادوں سے حیرت انگیز حد تک مطابقت رکھتی تھیں۔ گھر کے قریب قبرستان، آس پاس سیپیوں کی فیکٹری، بھائیوں کے پیشے اور 2008 میں درج کرائی گئی گمشدگی کی پولیس رپورٹ، سب کچھ ایک دوسرے سے ملنے لگا۔ بہنوں کے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی ساخت بھی غیر معمولی طور پر ایک جیسی تھی۔ اب صرف ایک مرحلہ باقی تھا، یعنی ڈی این اے ٹیسٹ۔ ماں اور بیٹی کے نمونے جرمنی بھیجے گئے۔ تقریباً دو ہفتے کے انتظار کے بعد جولائی 2026 میں رپورٹ موصول ہوئی، جو مثبت تھی۔ نجلہ دراصل شہناز تھی، وہی چار سالہ بچی جو جون 2008 میں راستہ بھول کر اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی۔ 

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ شہناز کے گم ہونے کے بعد بعض رشتہ داروں نے اس کے چچا پر الزام لگا دیا تھا کہ انہوں نے بچی کو فروخت کر دیا ہے۔ یہ الزام اس نوجوان چچا کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ چند ماہ بعد ان کا انتقال ہو گیا، گھر ٹوٹ گیا، والدین جدا ہو گئے اور بہن بھائی مختلف سمتوں میں بکھر گئے۔ بہنوں کے رشتوں تک پر اس الزام کا سایہ منڈلاتا رہا۔ ڈی این اے رپورٹ نے ایک ہی لمحے میں تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے۔ ولی اللہ معروف نے صرف خاندان کی شناخت تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ بکھرے ہوئے اہلِ خانہ کو دوبارہ ایک جگہ جمع کیا۔ پھر پورا خاندان ایک بس میں بیٹھ کر نجلہ کے گھر پہنچا۔ اٹھارہ برس بعد ہونے والی اس ملاقات کو الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ کوئی آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا، کوئی برسوں کی خاموشی توڑ رہا تھا اور کوئی صرف اتنا کہہ سکا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے آج ہماری دعا قبول کر لی ہے۔ اس پوری داستان میں ایک کردار مسلسل خاموشی سے روشنی بکھیرتا نظر آتا ہے، اور وہ ہیں قاری بشیر۔ انہوں نے ایک لاوارث بچی کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اپنی ذمہ داری سمجھا، محفوظ جگہ پہنچایا، اس کی شناخت کی ہر ممکن کوشش کی اور انسانیت کا وہ عملی نمونہ پیش کیا جو معاشرے کے لیے ایک مثال ہے۔ اگر اس دن وہ یہ ذمہ داری نہ نبھاتے تو شاید یہ داستان کبھی اپنے خوش گوار انجام تک نہ پہنچتی۔

اللہ تعالیٰ ولی اللہ معروف، قاری بشیر اور ان تمام لوگوں کو بہترین اجر عطا فرمائے، جو انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہیں۔ آمین۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default