ٹرمپ انتظامیہ کی نئی محصولات پالیسی، عالمی تجارتی شراکت داروں اور امریکی صارفین کے لیے اہم چیلنج بن گئی
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے عندیہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عارضی محصولات (ٹیرف) کی مدت ختم ہونے کے بعد 60 کے قریب تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے محصولات نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
جیمیسن گریر نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کی جانب سے جلد ہی نئی تجارتی کارروائی متوقع ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیرف امریکی تجارت کے ایک بڑے حصے کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں چین، جاپان اور یورپی یونین سمیت کئی بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے بعض محصولات کے نفاذ کو محدود کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی محصولات پالیسی کے تحت ایسے ممالک کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن پر امریکا جبری مشقت، تجارتی عدم مساوات اور امریکی مصنوعات کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک جیسے الزامات عائد کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا نے برازیل کی درآمدات پر بھی نئے محصولات عائد کیے ہیں، جن میں اسٹیل، چینی اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا کے خلاف بھی بعض مصنوعات پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا، جس میں شراب، سیمنٹ اور دیگر درآمدی اشیا شامل ہیں۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امریکی صنعتوں اور کارکنوں کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ ان ممالک کو جواب دہ بنانا چاہتے ہیں جو امریکی تجارت کے ساتھ مبینہ طور پر غیر منصفانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ٹیرف کا اصل بوجھ اکثر انہی ممالک پر نہیں پڑتا جن پر محصولات عائد کیے جاتے ہیں بلکہ اس کا بڑا حصہ درآمد کنندگان اور صارفین برداشت کرتے ہیں۔
جرمنی کے کیل انسٹی ٹیوٹ فار دی ورلڈ اکانومی کے ایک تجزیے کے مطابق امریکی درآمد کنندگان اور صارفین محصولات کے تقریباً 96 فیصد اخراجات برداشت کر رہے ہیں، جبکہ ٹیکس فاؤنڈیشن کے اندازے کے مطابق ان اقدامات سے امریکی گھرانوں پر سالانہ سینکڑوں ڈالر کا اضافی مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا نے بڑے پیمانے پر نئے ٹیرف نافذ کیے تو اس کے اثرات صرف امریکی معیشت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، سپلائی چین اور مختلف ممالک کے اقتصادی تعلقات پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی جنگوں کے دور میں محصولات اگرچہ بعض اوقات مقامی صنعتوں کے تحفظ کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ مہنگائی، کاروباری لاگت اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

