ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش ۔ آسیان ممالک توانائی بحران کے خدشات سے دوچار

پیووف آفیشل
0


 جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک تیل کی سپلائی میں کمی اور بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) نے ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آسیان کے اعلیٰ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اہم بحری تجارتی راستوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ آسیان کے وزرائے خارجہ اور ان کے اہم شراکت داروں نے منگل کے روز فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ہونے والے اجلاس میں ایران جنگ کے علاقائی اور عالمی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں خطے کے ممالک نے توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے اور بڑھتے ہوئے بحران کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا۔ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث خاص طور پر وہ ممالک مشکلات کا شکار ہیں جو مشرق وسطیٰ سے آنے والی توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ آسیان ممالک نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال امن مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور استحکام کے لیے تشویش کا باعث ہے اور مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ اسی دوران یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خلیج کے راستے توانائی کی عالمی ترسیل اور سمندری تجارت کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے اثرات جنوب مشرقی ایشیا تک پہنچ چکے ہیں، جہاں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صنعتی پیداوار اور برآمدی شعبے بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فلپائن ان ممالک میں شامل ہے جو توانائی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ فلپائن نے توانائی کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے اور اب اسے ایک طرف ایندھن کی قلت جبکہ دوسری جانب بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔ آسیان اجلاس میں ایران جنگ اور توانائی بحران کے علاوہ میانمار کی صورتحال، بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ میانمار میں جاری خانہ جنگی بھی اجلاس کا اہم موضوع رہی، جہاں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے سیاسی اور انسانی بحران برقرار ہے۔ دوسری جانب بحیرہ جنوبی چین میں چین اور فلپائن کے درمیان کشیدگی بھی خطے کے ممالک کے لیے باعث تشویش ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ دنیا کے ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران کس طرح ہزاروں کلومیٹر دور ممالک کی معیشت، توانائی اور سفارتی پالیسیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default