آبنائے ہرمز کی بندش، توانائی بحران اور بڑھتی مہنگائی نے عالمی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگی کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی معیشت ایک مرتبہ پھر دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ماہرین اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، صنعت اور عالمی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ٹفٹس فلیچر اسکول میں بین الاقوامی اقتصادی امور کے پروفیسر مائیکل کلین کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی مارکیٹوں کا رویہ تبدیل ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کے خطرات کو دیکھتے ہوئے مہنگائی میں اضافے کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں، کیونکہ توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ عالمی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جو دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے، موجودہ بحران میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی، تاہم کشیدگی کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ابتدائی طور پر تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی۔ امریکی محکمہ محنت کے مطابق جون میں صارف قیمتوں کے اشاریے (CPI) میں ماہانہ بنیاد پر کمی ریکارڈ کی گئی، جس میں توانائی کی قیمتوں میں کمی کا اہم کردار تھا۔ اس دوران تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9.7 فیصد کمی بھی دیکھی گئی۔ تاہم صورتحال زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ بڑھ گئی، جبکہ امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت بھی گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بلند ہوئی۔ مائیکل کلین کے مطابق مارکیٹیں مستقبل کو دیکھ کر فیصلے کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار سیاسی بیانات کے بجائے زمینی حقائق اور خطرات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ غیر یقینی صورتحال توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف خام تیل کی قیمتوں کا نہیں بلکہ ریفائن شدہ مصنوعات کی فراہمی کا بھی ہے۔ تیل سے تیار ہونے والے پٹرول اور ڈیزل کی قلت صارفین اور صنعتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ توانائی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنانے والی ایک اور وجہ دنیا کے مختلف حصوں میں ریفائنریوں کی کم ہوتی پیداوار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بعض ریفائنریز کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ روسی ریفائنریوں کو بھی یوکرین کے حملوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی کی ماہر ریچل زیمبا کے مطابق گزشتہ عرصے میں تیل کی قیمتوں میں کمی عارضی عوامل کی وجہ سے تھی، لیکن اب سپلائی کے مسائل دوبارہ قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی بحران طویل عرصے تک جاری رہا تو اس کے اثرات خوراک کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ کھاد کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ زراعت کا شعبہ توانائی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ریچل زیمبا کے مطابق صورتحال کا انحصار اس بات پر ہے کہ سپلائی میں کمی کتنے عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ اگر بحران طویل ہوا تو دنیا کے مختلف حصے خوراک کے عدم تحفظ اور مہنگائی کے بڑے مسئلے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں ابھی تک اس خطرے کی مکمل عکاسی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق سرمایہ کار ماضی کے تجربات کی بنیاد پر یہ توقع کر رہے ہیں کہ حکومتیں اور مرکزی بینک کسی بڑے بحران کی صورت میں اقدامات کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ، توانائی، مہنگائی اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران جنگ کے سائے میں عالمی معیشت پر دباؤ، تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھنے لگیں
جولائی 21, 2026
0

