نئی دہلی میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، امتحانی بے ضابطگیوں پر حکومت کے خلاف غصہ بڑھنے لگا۔ ہزاروں مظاہرین کا مارچ، پولیس کریک ڈاؤن، درجنوں طلبہ زخمی؛ نوجوان انصاف اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نئی دہلی کے مرکزی علاقوں میں پیر کے روز ہونے والے بڑے طلبہ احتجاج نے بھارتی دارالحکومت کی سیاسی فضا کو ہلا کر رکھ دیا۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ اور کناٹ پلیس کے اطراف احتجاج کے بعد سڑکوں پر ٹوٹے شیشے، بکھری ہوئی اشیا اور پولیس کارروائی کے نشانات اس کشیدہ صورتحال کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ہزاروں طلبہ نے بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا، جس کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ احتجاجی تنظیموں کے مطابق کارروائی میں 100 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے۔ 18 سالہ طالب علم انشول دیو نے احتجاج کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا کہ وہ اپنے ہی شہر دہلی میں ایسی صورتحال دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوان حکومت سے اپنے مسائل کے حل اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج گزشتہ دو ماہ سے جاری اس غصے کا نتیجہ ہے جو بھارت میں داخلہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچے لیک ہونے اور نتائج میں غلطیوں کے الزامات کے بعد پیدا ہوا۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان مسائل نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے، جبکہ بعض واقعات میں طلبہ کی خودکشیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور طلبہ کے مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے احتجاج پر براہ راست کوئی بیان نہیں دیا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے غصے کا سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔ احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیم کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دیتی۔ احتجاجی مقام جنتر منتر پر رضاکاروں نے صفائی کا انتظام کیا اور مظاہرین نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ یہ مقام بھارت میں سیاسی اور سماجی احتجاجات کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ احتجاج کے اہم مطالبات میں وزیر تعلیم کے استعفے کے علاوہ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی رہائی اور مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، کیونکہ روزگار، تعلیم اور شفاف امتحانی نظام جیسے مسائل بھارت کے نوجوان طبقے میں مسلسل بحث کا موضوع بن رہے ہیں۔ تجزیہ کار نیلنجن مکوپادھیائے کے مطابق نوجوانوں میں بڑھتا ہوا غصہ حکومت کے لیے ایک سیاسی امتحان بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سخت رویہ اختیار کرنے سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب احتجاجی تحریک نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے، جہاں نوجوانوں نے میمز، ویڈیوز اور آن لائن مہمات کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بھارتی دارالحکومت میں ہونے والا یہ احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نوجوان نسل تعلیم، روزگار اور شفاف نظام کے معاملات پر زیادہ مضبوط آواز کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔
پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ بھارتی طلباء مظاہرین پولیس کے کریک ڈاؤن کے بعد واپس آ گئے۔
جولائی 21, 2026
0

