غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی کنٹرول میں توسیع، محصور آبادی پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔

پیووف آفیشل
0

 

جنگ بندی کے بعد طے پانے والے انتظامات کے باوجود غزہ کی زمینی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے مقبوضہ علاقوں اور غزہ کے درمیان قائم کیے گئے کنٹرول زون میں مزید توسیع کر دی ہے، جس کے باعث محصور فلسطینی آبادی کو نئے انسانی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پہلے قائم کی گئی "زرد لکیر" (Yellow Line) غزہ کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر محیط تھی، تاہم اب توسیع شدہ "نارنجی لکیر" (Orange Line) کے بعد اسرائیلی کنٹرول کا دائرہ 65 فیصد سے زائد علاقے تک پہنچ گیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں غزہ کے صرف تقریباً 30 فیصد حصے میں ہی لگ بھگ 21 لاکھ بے گھر فلسطینی انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ توسیع شدہ کنٹرول زون تقریباً 100 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے، جہاں 35 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں، جب کہ ہزاروں خاندانوں پر اپنے گھروں اور علاقوں سے نقل مکانی کا دباؤ برقرار ہے۔ انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق اس توسیع نے زرعی زمینوں، ماہی گیری کے اہم علاقوں اور بنیادی رسد کے راستوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ خوراک کی تقسیم کے مراکز، طبی سہولیات، تعلیمی ادارے اور اقوام متحدہ کے ادارے انروا (UNRWA) کی متعدد تنصیبات بھی باقی آبادی سے عملی طور پر الگ تھلگ ہو گئی ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زمینی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو غزہ میں پہلے سے موجود انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات لاکھوں شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں، پر مرتب ہوں گے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default