نئی دہلی میں طلبہ کا احتجاج، حکومت اور میڈیا کے کردار پر اٹھتے سوالات
جولائی 26, 2026
0
نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت اور بعض بھارتی ذرائع ابلاغ کے کردار پر شدید تنقید کی۔ احتجاج میں شریک طلبہ نے الزام عائد کیا کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو ماضی میں "پاکستانی ایجنٹ" قرار دے کر بدنام کیا جاتا رہا ہے۔ جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج کے دوران 23 روز تک بھوک ہڑتال کرنے والی طالبہ نیہا بورا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر میں ہونے والے واقعات پر بروقت آواز اٹھائی جاتی تو آج حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کشمیر اور دہلی فسادات کے دوران لوگوں کو "پاکستانی ایجنٹ" کہا گیا تو عوام نے ان دعوؤں کو قبول کر لیا، لیکن اب جب اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کرنے والے طلبہ پر بھی یہی الزام لگایا جا رہا ہے تو بہت سے لوگوں کو ان الزامات کی حقیقت پر سوال اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ نیہا بورا نے اپنے خطاب میں بعض بھارتی میڈیا اداروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے مختلف اوقات میں احتجاجی تحریکوں کی غیر جانبدارانہ انداز میں کوریج نہیں کی۔ واضح رہے کہ حالیہ طلبہ تحریک کے دوران مظاہرین نے مختلف تعلیمی اور انتظامی مطالبات پیش کیے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کے بعد بھارتی وزیرِ تعلیم نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا، جبکہ اس دوران احتجاجی مظاہروں میں پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

