تین برس سے مقید آنسو بالآخر آج بہہ نکلے۔

پیووف آفیشل
0

 

یہ 112 شہداء کے جسدِ خاکی ہیں، جن کا تعلق ابو شریعہ اور حساینہ خاندان سے تھا۔ اس سانحے کے بارے میں جب ان کے ایک قریبی رشتہ دار سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا: "اس علاقے میں تقریباً 300 مرد، عورتیں اور بچے ایک دوسرے سے ملحق گھروں میں رہتے تھے۔ ڈرون حملوں میں ہر گھر پر ایک یا دو میزائل داغے گئے تاکہ لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلنے اور بے گھر ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ تمام خاندان مختار فتحی ابو شریعہ کی عمارت میں جمع ہو گئے، جہاں خاندان کے بزرگ نے شدید ترین حالات میں بھی سب کو حوصلہ اور تحفظ کا احساس دلانے کی کوشش کی۔ پھر جنگی طیاروں نے اس عمارت پر درجنوں بڑے بم گرائے اور وہاں موجود تمام افراد جان کی بازی ہار گئے۔ واقعی، کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔" ڈھائی برس گزر گئے، مگر ایک آخری چیخ دلوں میں مقید رہی جو کبھی بلند نہ ہو سکی۔ چاول کے وہ چند دانے، جو الوداع کے آخری لمحے میں عورتیں چھت سے نہ بکھیر سکیں، اور وہ زغرودہ، جو اس سانحے کے بعد کبھی گونج نہ سکا، وقت کی خاموشی میں دفن رہے۔ آج برسوں بعد وہ دبے ہوئے آنسو بہہ نکلے ہیں۔

شہداء کو سلام۔

اور فلسطین کو بھی سلام، جسے ہم اپنی ہتھیلیوں پر اس لیے نہیں اٹھائے ہوئے کہ اسے دفنا دیں، بلکہ اس لیے کہ اسے زیتون کے درخت کی طرح اس سرزمین میں مزید مضبوطی سے جما دیں، جو ہر آزمائش کے باوجود کبھی دھڑکنا نہیں چھوڑے گی۔

عربی سے ماخوذ

تصویرکے لیےشکریہ  محمد محمود بعلوشہ


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default