ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کا ہدف ایران نہیں ہے اور نہ ہی کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حاکان فیدان کے مطابق معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں بلکہ تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت اگر کسی رکن ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترک وزیر خارجہ نے اس معاہدے کو تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا ہے۔ نیٹو کے اسی اصول کے تحت ایک رکن پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم مکہ دفاعی معاہدے کی اپنی الگ ساخت اور علاقائی ترجیحات ہیں۔
حاکان فیدان نے بتایا کہ معاہدے کے تحت وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی اور جنرل سیکرٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا، جس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطہ اور تعاون کو مؤثر بنانا ہوگا۔
انہوں نے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کے تحفظ کو بھی ترکیہ کے مفادات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کو سعودی عرب کی جانب سے قائم کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں میں شامل ہونا چاہیے۔
ترک وزیر خارجہ نے دفاعی معاہدے میں مصر کی ممکنہ شمولیت کا اشارہ بھی دیا اور کہا کہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر کے اس دفاعی تعاون کا حصہ بننے کا امکان موجود ہے۔
یوں مکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان ایک عسکری سمجھوتہ نہیں رہتا بلکہ اس کے دائرۂ کار میں وسعت کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر مصر سمیت دیگر ممالک بھی اس تعاون کا حصہ بنتے ہیں تو مشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کے دفاعی منظرنامے میں ایک نئی صف بندی سامنے آ سکتی ہے۔

