دل کی اچھی صحت کے لیے چہل قدمی کا بہترین وقت کون سا ہے؟ نئی تحقیق کے نتائج جانیے

پیووف آفیشل
0


چہل قدمی ایک ایسی سادہ اور آسان جسمانی سرگرمی ہے جسے اکثر لوگ معمول کا عام حصہ سمجھتے ہیں، حالاں کہ طبی ماہرین کے مطابق یہ صحت مند زندگی کے لیے نہایت مؤثر ورزش ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیقی مطالعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ذیابیطس، موٹاپے، امراضِ قلب اور دیگر کئی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ایسے میں روزانہ معمول میں چہل قدمی کو شامل کرنا جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ خصوصاً باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے دل کے امراض، ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ دل کی صحت کے لیے چہل قدمی کا سب سے مؤثر وقت کون سا ہے؟

امریکا کی یونیورسٹی آف میساچوسٹس چن میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ تقریباً 30 منٹ چہل قدمی دل کی صحت کے لیے مفید ہے، تاہم دن کے مخصوص اوقات میں جسمانی سرگرمی کے فوائد زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ تحقیق میں 14 ہزار سے زائد افراد کی اسمارٹ واچز سے حاصل کیے گئے ایک سال کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ صبح 7 سے 8 بجے کے درمیان ورزش یا چہل قدمی کرنے والے افراد میں دل کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا۔ تحقیق کے مطابق صبح کے وقت جسمانی سرگرمی اختیار کرنے سے:

- امراضِ قلب کا خطرہ تقریباً 31 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

- ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ تقریباً 30 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

- موٹاپے کا خطرہ تقریباً 35 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

- ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں تقریباً 18 فیصد کمی آ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دن کے دیگر اوقات میں بھی جسمانی سرگرمی کو معمول بنایا جائے تو صحت کے فوائد مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے قبل ہونے والی مختلف تحقیقات میں بھی صبح کے وقت چہل قدمی کے فوائد سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صبح ورزش کرنے والے افراد میں دن بھر جسمانی سرگرمی برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جبکہ بعض افراد میں کھانے کی غیر ضروری خواہش بھی کم ہو سکتی ہے۔ صبح کے وقت چہل قدمی سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جسم میں توانائی کا احساس بڑھتا ہے اور ذہنی تازگی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر کسی شخص کا کام زیادہ دیر تک بیٹھنے والا ہو تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ وقفے وقفے سے اپنی نشست سے اٹھ کر چند منٹ چہل قدمی ضرور کی جائے۔ دوپہر کے وقت مختصر چہل قدمی سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے، ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے اور کام پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دوپہر کی جسمانی سرگرمی غنودگی کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

 شام کے وقت چہل قدمی دن بھر کی تھکاوٹ کم کرنے، ذہنی سکون حاصل کرنے اور غیر ضروری کھانے کی خواہش کو قابو کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق رات کے کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں بھی معاون ہو سکتی ہے، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ عادت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ تحقیق کے مطابق صبح 7 سے 8 بجے کا وقت دل کی صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار دیا گیا ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ چہل قدمی کو روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے۔ اپنی عمر، صحت اور روزمرہ معمولات کے مطابق کسی بھی مناسب وقت پر باقاعدگی سے چہل قدمی کرنا جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ نوٹ: یہ مضمون طبی تحقیقات اور ماہرین کی عمومی معلومات پر مبنی ہے۔ اگر کسی فرد کو دل، بلڈ پریشر یا کسی دوسری بیماری کا مسئلہ ہو تو ورزش شروع کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default