کراچی: طبی ماہرین نے کہا ہے کہ تپِ دق (ٹی بی) دنیا کی خطرناک متعدی بیماریوں میں شامل ہے اور اسے صرف قابو کرنے کے بجائے عالمی سطح پر ختم کرنے کے لیے مزید مؤثر حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبادی اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے باعث صحت کے شعبے کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ گلوبل کلائمیٹ چینج کے باعث بعض بیماریوں کے جراثیم میں تبدیلیاں بھی دیکھی جا رہی ہیں، جس سے ان کے مقابلے کے لیے مزید تحقیق اور بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں منعقد ہونے والی APAC-IRIDS کانفرنس میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے طبی ماہرین نے شرکت کی اور ٹی بی سمیت مختلف متعدی بیماریوں کے خاتمے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔ کانفرنس میں پاکستان سے ڈاکٹر کنیز فاطمہ، بھارت سے ڈاکٹر سبرامانین سوامی ناتھن، انڈونیشیا سے ڈاکٹر ارلینا برہان، فلپائن سے ڈاکٹر روگایا ڈبلیو کالاپس اور دیگر عالمی ماہرین نے ٹی بی کے خاتمے کے لیے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں صرف ٹی بی کو کنٹرول کرنا کافی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر ایسی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے اس بیماری کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ طبی ماہرین کے مطابق ٹی بی ایک متعدی بیماری ہے جو متاثرہ فرد سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کے جراثیم بعض اوقات طویل عرصے تک جسم میں موجود رہتے ہیں اور مریض کو فوری طور پر معلوم نہیں ہو پاتا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی بی کے خاتمے کے لیے بروقت تشخیص، مکمل علاج، عوامی آگاہی اور صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ اس بیماری سے ہونے والی اموات اور پھیلاؤ میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔

