سانس کی بدبو سے پریشان ہیں؟ اس کی عام وجوہات، احتیاطی تدابیر اور طبی حقائق جانیں

پیووف آفیشل
0


سانس کی بدبو ایک عام مگر پریشان کن مسئلہ ہے، جس کا سامنا زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر تقریباً ہر فرد کو ہو سکتا ہے۔ طبی اصطلاح میں اس کیفیت کو ہیلیٹوسس (Halitosis) کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اکثر اوقات یہ ایک عارضی مسئلہ ہوتا ہے، لیکن بعض افراد میں یہ مسلسل برقرار رہ سکتا ہے اور کسی اندرونی بیماری کی علامت بھی بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق تقریباً 50 فیصد بالغ افراد کو زندگی میں کبھی نہ کبھی سانس کی بدبو کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں منہ کی صفائی میں کمی، خوراک، تمباکو نوشی اور بعض طبی امراض شامل ہیں۔

دانتوں، زبان اور مسوڑھوں پر خوراک کے ذرات جمع ہو جائیں تو ان پر بیکٹیریا افزائش پاتے ہیں، جو ناخوشگوار بو پیدا کرنے والے مرکبات خارج کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دانتوں کی باقاعدہ صفائی سانس کو خوشگوار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

زبان کی سطح پر بھی بڑی تعداد میں بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ اگر زبان کو روزانہ صاف نہ کیا جائے تو یہی بیکٹیریا سانس کی بدبو کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لیے دانت برش کرنے کے ساتھ زبان کی صفائی بھی روزمرہ معمول کا حصہ ہونی چاہیے۔

لہسن، پیاز اور تیز مہک والی بعض دیگر غذائیں کھانے کے بعد ان میں موجود خوشبودار مرکبات خون کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچتے ہیں، جہاں سے وہ سانس کے ساتھ خارج ہوتے ہیں اور بدبو محسوس ہوتی ہے۔ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات نہ صرف منہ میں بدبو پیدا کرتی ہیں بلکہ مسوڑھوں کی بیماریوں اور منہ کی دیگر طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہیں۔

لعابِ دہن منہ کو صاف رکھنے اور بیکٹیریا کی تعداد کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب منہ خشک ہو جائے، چاہے پانی کم پینے، منہ کھول کر سونے، بعض ادویات یا لعاب بنانے والے غدود کے مسائل کی وجہ سے، تو بدبو پیدا کرنے والے بیکٹیریا تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں۔

دانتوں پر جمنے والی میل (پلاک) کو بروقت صاف نہ کیا جائے تو مسوڑھوں میں سوزش اور انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے، جو سانس کی مسلسل بدبو کی ایک عام وجہ ہے۔

ناک کے انفیکشن، ٹانسلز میں پتھری (Tonsil Stones)، گلے کی سوزش اور سانس کی نالی کے بعض امراض بھی سانس کی بدبو کا سبب بن سکتے ہیں۔

بعض اوقات سانس کی غیر معمولی بو گردوں کے امراض، جگر کی بیماری، ذیابیطس یا معدے کی تیزابیت (ایسڈ ریفلکس) جیسی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ اگر بدبو طویل عرصے تک برقرار رہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔

سانس کی بدبو سے بچنے کے آسان طریقے

- دن میں کم از کم دو مرتبہ دانت برش کریں۔

- زبان کو روزانہ صاف کریں۔

- ڈینٹل فلاس کا استعمال معمول بنائیں۔

- مناسب مقدار میں پانی پئیں تاکہ منہ خشک نہ ہو۔

- تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔

- ہر چھ ماہ بعد دانتوں کا معائنہ کروائیں۔

- اگر سانس کی بدبو مسلسل برقرار رہے تو دانتوں کے ڈاکٹر یا معالج سے ضرور رجوع کریں، کیونکہ یہ کسی اندرونی بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ 

نوٹ : یہ مضمون طبی جریدوں اور ماہرین کی عمومی معلومات پر مبنی ہے۔ اگر سانس کی بدبو مسلسل برقرار رہے یا اس کے ساتھ دیگر علامات بھی موجود ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default