جوڑوں کا درد اور سوزش دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے، جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ مسئلہ مزید عام ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے علاج کے لیے مختلف ادویات اور طریقۂ علاج موجود ہیں، تاہم ماہرین صحت متوازن غذا کو بھی جوڑوں کی صحت برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انگور اور بعض بیریز میں پایا جانے والا قدرتی مرکب ریسویراٹرول (Resveratrol) جوڑوں کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین نے ماضی میں شائع ہونے والی متعدد سائنسی تحقیقات کا جائزہ لیتے ہوئے ریسویراٹرول کے جوڑوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کیا۔ یہ قدرتی پولی فینول مرکب انگور، بلیو بیری، کرین بیری اور دیگر بعض بیریز میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ریسویراٹرول میں طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ اور ورم کم کرنے (اینٹی انفلامیٹری) خصوصیات موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوڑوں کی بہت سی بیماریوں، خصوصاً گٹھیا، میں دائمی سوزش بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ یہ مرکب جسم میں مختلف حیاتیاتی عمل کے ذریعے سوزش کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
محققین نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ ریسویراٹرول جسم میں آسانی سے جذب نہیں ہوتا اور جگر میں اس کا بڑا حصہ میٹابولائز ہو جاتا ہے، تاہم دستیاب تحقیقی شواہد سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ مرکب جوڑوں کی تکلیف کم کرنے اور بعض صورتوں میں جوڑوں کو نقصان یا چوٹ سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس موضوع پر مزید طبی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ریسویراٹرول پر مبنی مؤثر ادویات یا سپلیمنٹس تیار کیے جا سکیں، جو جوڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں۔ اگرچہ صرف انگور یا بیریز کھانے کو جوڑوں کے درد کا علاج نہیں کہا جا سکتا، تاہم انہیں متوازن غذا کا حصہ بنانا مجموعی صحت اور جوڑوں کی بہتر کارکردگی کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ جوڑوں کے مسلسل درد، سوجن یا حرکت میں دشواری کی صورت میں مستند معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
یہ تحقیق جرنل آف انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ میں شائع ہوئی ہے۔

