جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکریٹری امیر العظیم انتقال کر گئے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور زیرِ علاج تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ آج شام 5 بجے منصورہ، لاہور میں ادا کی جائے گی، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت، کارکنان، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ امیر العظیم 1958ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ اسکول سنت نگر سے حاصل کی، بعد ازاں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی کیا۔ انہوں نے اسلامیہ کالج سول لائنز سے فزکس اور ڈبل میتھ کے ساتھ بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے مکمل کیا۔ امیر العظیم نے طالب علمی کے زمانے ہی سے اسلامی جمعیت طلبہ میں عملی کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر بھی رہے۔ بعد ازاں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے اور تنظیمی ذمہ داریاں نہایت فعال انداز میں انجام دیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک کے دوران انہوں نے لانگ مارچ میں حصہ لیا، جس کے باعث انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ اسی دورانِ اسیری انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظمِ اعلیٰ منتخب کیا گیا، جو ان کی جدوجہد اور تنظیمی اعتماد کا نمایاں ثبوت تھا۔ امیر العظیم ایک طویل عرصے تک جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رہے۔ بعد ازاں وہ جماعت اسلامی لاہور کے سیکریٹری جنرل اور پھر امیر مقرر ہوئے۔ سال 2019ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے اُس وقت کے امیر سراج الحق نے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی جنرل سیکریٹری مقرر کیا، جہاں انہوں نے جماعت کے تنظیمی، سیاسی اور دعوتی امور میں اہم کردار ادا کیا۔ امیر العظیم اپنی سادہ طرزِ زندگی، تنظیمی صلاحیت، علمی مزاج، بردباری اور کارکنان سے قریبی تعلق کے باعث جماعت اسلامی کے حلقوں میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کے انتقال کو جماعت اسلامی اور ملکی سیاسی و دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

