سعودی عرب میں انسدادِ بدعنوانی کی بڑی کارروائی، سرکاری ملازمین اور کاروباری شخصیات گرفتار

پیووف آفیشل
0

 

سعودی عرب کی انسدادِ بدعنوانی اتھارٹی نزاہہ نے رشوت ستانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر کارروائی کرتے ہوئے متعدد سرکاری ملازمین، کاروباری شخصیات اور غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق ایک کاروباری شخصیت نے دو کنٹینرز کی غیر قانونی کلیئرنس کے لیے 16 لاکھ سعودی ریال رشوت کی پیش کش کی، جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اسی کارروائی کے دوران ایک سرکاری ملازم کو 2 لاکھ سعودی ریال رشوت وصول کرنے کے الزام میں بھی حراست میں لیا گیا۔ نزاہہ کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت کے ایک ملازم پر سرکاری منصوبوں کے غیر قانونی اجراء کے عوض 9 لاکھ سعودی ریال وصول کرنے کا الزام ہے، جس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ اسی طرح وزارتِ توانائی کے ایک منصوبے سے وابستہ شخص کو 2 لاکھ سعودی ریال رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ مزید برآں سابق پاسپورٹ اہلکار کو 60 ہزار 500 سعودی ریال اور کسٹمز کے ایک ملازم کو 55 ہزار سعودی ریال رشوت وصول کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ انسدادِ بدعنوانی اتھارٹی کے مطابق بلدیاتی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں سے وابستہ متعدد ملازمین کے خلاف بھی مختلف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی اور سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال میں ملوث کسی بھی فرد کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔ سعودی عرب میں حالیہ برسوں کے دوران شفاف طرزِ حکمرانی، احتساب اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اقدامات میں نمایاں تیزی آئی ہے، جن کا مقصد عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default