مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے خطے میں اپنے خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی کا آغاز کر دیا ہے، جب کہ امریکی اور برطانوی فضائی اڈوں پر موجود بمبار طیاروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق خطے میں سکیورٹی صورتِ حال میں مسلسل تبدیلی کے باعث امریکی افواج کو اضافی تیاریوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کو سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی حملے شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ "جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں"، جسے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کا اشارہ قرار دیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے بجلی گھروں، توانائی کے مراکز اور اہم پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں ممکنہ فوجی تصادم اور سلامتی کی صورتِ حال کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ، امریکا نے خصوصی دستوں کی تعیناتی شروع کر دی۔
جولائی 22, 2026
0
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے خطے میں اپنے خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی کا آغاز کر دیا ہے، جب کہ امریکی اور برطانوی فضائی اڈوں پر موجود بمبار طیاروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق خطے میں سکیورٹی صورتِ حال میں مسلسل تبدیلی کے باعث امریکی افواج کو اضافی تیاریوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کو سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی حملے شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ "جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں"، جسے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کا اشارہ قرار دیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے بجلی گھروں، توانائی کے مراکز اور اہم پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں ممکنہ فوجی تصادم اور سلامتی کی صورتِ حال کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

