غزہ معاہدہ ۔ حماس کا غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی افواج کے انخلا پر اتفاق ؟؟

پیووف آفیشل
0

 


واشنگٹن / غزہ (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ 'بورڈ آف پیس' نے غزہ میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے کا ایک تاریخی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ دوسری جانب حماس کی جانب سے بھی اس معاہدے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ان کے 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ مرحلہ وار اور منظم طریقے سے نافذ کیا جائے گا، اور جیسے جیسے غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج غزہ سے اپنا انخلا یقینی بنائیں گی۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بالآخر غزہ میں ایک نئی اور مستقل فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہے، جو اپنے عوام کی خدمت کے لیے بورڈ آف پیس کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل کو مطلوبہ سکیورٹی فراہم کی جائے گی تاکہ 7 اکتوبر جیسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اور غزہ کو مستقبل میں حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔

معاہدے کی تفصیلات کے مطابق غزہ میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی 'استحکام فورس' تشکیل دی جائے گی، جو نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ امریکی صدر نے ایک سالہ جنگ اور انسانی بحران کے بعد حاصل ہونے والی اس کامیابی پر مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہتھیاروں اور اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا پر اتفاق ہو چکا ہے۔ حماس نے امید ظاہر کی ہے کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک اور بورڈ آف پیس اسرائیل کو اس معاہدے کی مکمل پاسداری کا پابند بنائیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default