غزہ معاہدہ ۔ فلسطینی اتھارٹی اور حماس کی بجائے ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کرنے پر غور

پیووف آفیشل
0

 

واشنگٹن (ویب ڈیسک): بورڈ آف پیس کے تحت غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کے بعد امریکی حکام کی جانب سے ایک نیا اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق غزہ کا مستقبل کا نظام سنبھالنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی اور حماس کی بجائے ایک نئی 'ٹیکنوکریٹ حکومت' کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ اس غزہ منصوبے کے لیے اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار ہے، تاہم اسرائیل کو ابھی بھی حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر شکوک و شبہات ہیں۔ حکام کے مطابق حماس کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ تمام شرائط کی مکمل پاسداری سے مشروط ہوگا اور غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے تمام امور کی نگرانی خود 'بورڈ آف پیس' کرے گا۔ امریکی انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا، تاہم اگر اسرائیل نے اس معاہدے کو تسلیم نہ کیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید مایوسی ہوگی۔

دوسری جانب 'بورڈ آف پیس' کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ غزہ میں تمام قسم کی عسکری سرگرمیاں بند کرنا اس امن منصوبے کا لازمی حصہ ہے۔ منصوبے کی تفصیلی شرائط اگلے دو ہفتوں کے اندر جاری کر دی جائیں گی، جس کے بعد اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا شروع ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس تاریخی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جیسے ہی غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج واپس چلی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ایک بین الاقوامی 'استحکام فورس' نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر علاقے میں امن و امان کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default