غزہ میں جاری جنگ نے جہاں ہزاروں فلسطینی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیے ہیں، وہیں اس جنگ کے اثرات ان ہاتھوں تک بھی پہنچ رہے ہیں جو میدانِ جنگ میں ہتھیار اٹھائے کھڑے تھے۔ ایک سابق اسرائیلی فوجی اہلکار کے مطابق غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک اسرائیلی فوجی پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر یعنی شدید ذہنی صدمے کا شکار ہو رہے ہیں اور کئی فوجیوں کے لیے جنگ کے مناظر معمول کی زندگی میں واپس آ کر بھی ختم نہیں ہو پا رہے۔
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیل کی ایک سابق خاتون فوجی اہلکار نے غزہ میں اپنی تعیناتی کے دوران پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج میں انہیں بتایا جاتا تھا کہ وہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف تھی۔
ان کے بقول فلسطینی شہری بھی امن چاہتے ہیں اور زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوج چھوڑنے کے بعد جب انہوں نے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں اور بالخصوص بچوں کی اموات کے مناظر دیکھے تو وہ شدید صدمے میں چلی گئیں۔
یہ اعتراف محض ایک سابق فوجی کا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ جنگ کی اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جسے اکثر میزائلوں کے شور، فوجی بیانات اور سیاسی نعروں کے درمیان دبا دیا جاتا ہے۔ جنگ میدان میں ختم ہو سکتی ہے لیکن اس کے مناظر انسان کے ذہن میں برسوں زندہ رہتے ہیں۔
سابق اسرائیلی فوجی اہلکار نے بتایا کہ بچوں کے مرنے کے مناظر اور ماؤں کے رونے کی آوازیں اب بھی ان کے ذہن میں گونجتی ہیں اور احساسِ جرم ختم نہیں ہوتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں کی تباہی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے لے کر ویت نام اور دیگر جنگوں تک فوجیوں میں جنگ کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی صدمے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ کبھی اسے جنگی تھکن کہا گیا، کبھی ’’شیل شاک‘‘ اور بعد کے زمانے میں طبی ماہرین نے اسے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کے نام سے باقاعدہ طبی اصطلاح کے طور پر شناخت کیا۔
مگر غزہ کا المیہ اس سے بھی آگے ایک بنیادی انسانی سوال کھڑا کرتا ہے: اگر ایک سپاہی میدانِ جنگ سے واپس آ کر بچوں کی لاشیں اور ماؤں کی چیخیں بھلا نہیں سکتا تو وہ معاشرہ ان معصوموں کے دکھ کو کیسے بھلا سکتا ہے جو جنگ کے درمیان اپنے گھر، اپنے عزیز اور اپنی پوری زندگی کھو دیتے ہیں؟
جنگ کے بارے میں عموماً فاتح اور مفتوح کی بات کی جاتی ہے، مگر انسانی تاریخ کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ جنگ میں بعض اوقات کوئی بھی حقیقی معنوں میں فاتح نہیں ہوتا۔ ایک طرف تباہ شدہ گھر ہوتے ہیں، دوسری طرف زخمی ضمیر۔ ایک طرف ملبے تلے دبے خواب ہوتے ہیں، دوسری طرف وہ یادیں جو برسوں تک انسان کا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔
غزہ کی موجودہ صورتِ حال نے دنیا کے سامنے ایک بار پھر یہ سوال رکھا ہے کہ طاقت کے استعمال سے کیا واقعی امن حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اگر امن انسان کی بنیادی خواہش ہے تو پھر معصوم انسانوں کی جان لے کر امن کی منزل تک پہنچنے کا دعویٰ آخر کس منطق پر قائم ہو سکتا ہے؟
شاید جنگ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ گولی چلانے والا ہاتھ بھی ایک دن خاموش ہو جاتا ہے، توپوں کی آواز بھی تھم جاتی ہے، مگر ایک بچے کی چیخ، ایک ماں کا آنسو اور ایک بے گناہ انسان کی موت کا منظر کبھی کبھی پوری زندگی انسان کے اندر زندہ رہتا ہے اور جب ضمیر سوال کرنے لگے تو جنگ کا شور بھی اس سوال کو خاموش نہیں کر سکتا۔

