پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ

پیووف آفیشل
0

 

مکہ مکرمہ کی فضاؤں میں جمعہ کے روز ایک ایسا معاہدہ طے پایا جسے محض تین ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک دستاویز کہنا شاید اس کی اہمیت کو محدود کرنا ہوگا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور اس معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کئی برس سے مسلسل کشیدگی، جنگوں، سیاسی تنازعات اور بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں مکہ مکرمہ سے تین اہم مسلم ممالک کا مشترکہ دفاعی عزم سامنے آنا یقیناً عالمی سیاست کے لیے بھی ایک قابلِ توجہ پیش رفت ہے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اس معاہدے کو خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں برادر ممالک کے لیے کھلا قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اجتماعی دفاعی صلاحیت پر مبنی یہ معاہدہ تینوں ممالک کے سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا، دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دے گا اور دہشت گردی کے خلاف تعاون میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ دفاع کے حق کی توثیق کرتا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی اسے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سعودی عرب کے مضبوط تعلقات کا مظہر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی امن کو فروغ دینے میں مدد دے گا جس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق مکہ معاہدہ امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ سیاسی عزم کی علامت ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کوئی نئی داستان نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذہبی عقیدت، عوامی روابط، اقتصادی تعاون اور دفاعی تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے رہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے مشکل ادوار میں مالی اور سفارتی تعاون کیا تو پاکستان نے بھی سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے معاملات میں اپنی ذمہ داری کا اظہار کیا۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کی کوششیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے رواں برس بھی سعودی عرب کے ساتھ موجود دفاعی اور باہمی دفاعی معاہدوں کو پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔

ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی تاریخ کے ایک گہرے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔ خلافتِ عثمانیہ کے آخری دور سے برصغیر کے مسلمانوں اور ترک عوام کے درمیان جو جذباتی تعلق قائم ہوا، اس نے جدید دور میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک منفرد بنیاد فراہم کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ترکیہ ان ممالک میں شامل رہا جن کے ساتھ پاکستان نے سیاسی، سفارتی اور دفاعی میدان میں قریبی روابط استوار کیے۔

وقت کے ساتھ یہ تعلق محض جذباتی وابستگی تک محدود نہیں رہا بلکہ دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، تربیت، تجارت اور سفارت کاری تک پھیل گیا۔ آج پاکستان کے پاس ایک مضبوط دفاعی تجربہ ہے، ترکیہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت رکھتا ہے اور سعودی عرب خطے کی ایک بڑی معاشی و سیاسی قوت ہے۔ یوں دیکھا جائے تو تینوں ممالک اپنی اپنی طاقت کے مختلف پہلو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

مکہ مکرمہ صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔ اسی شہر میں تین مسلم ممالک کے سربراہان کا ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کرنا اس معاہدے کو ایک خاص علامتی معنویت بھی دیتا ہے۔ تاہم اس علامت کو جذبات سے زیادہ سفارت کاری اور عملی تعاون کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

دنیا کی تاریخ میں دفاعی معاہدے کوئی نئی چیز نہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی طاقتوں نے اپنی سلامتی کو اجتماعی نظاموں کے ساتھ جوڑنا شروع کیا۔ یورپ میں شمالی بحرِ اوقیانوس کے معاہدے یعنی نیٹو نے اجتماعی دفاع کے تصور کو ایک نئی شکل دی۔ اس کا بنیادی اصول بھی یہی تھا کہ ایک رکن کے خلاف مسلح حملہ اجتماعی دفاع کا معاملہ سمجھا جائے گا۔

لیکن ہر معاہدہ اپنے مخصوص جغرافیائی اور تاریخی حالات میں تشکیل پاتا ہے۔ مکہ کا یہ معاہدہ بھی اپنے وقت کے سیاسی حالات کا عکس ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ترکیہ کے صدر نے خود واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور دوسرے برادر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس اتحاد کو کسی مخصوص ملک کے خلاف فوجی محاذ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت بھی کئی سطحوں پر ہے۔ ایک طرف یہ سعودی عرب کے ساتھ پہلے سے موجود دفاعی تعلقات کو ایک وسیع تر فریم ورک فراہم کرتا ہے، دوسری طرف ترکیہ کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کے امکانات کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی معاشی قوت اگر ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے۔ تاہم اصل کامیابی معاہدے پر دستخط کرنے سے نہیں بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد سے سامنے آئے گی۔

دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت سے معاہدے گزرے ہیں جو کاغذ پر مضبوط دکھائی دیتے تھے مگر بدلتے ہوئے حالات کے سامنے ان کی عملی حیثیت کمزور پڑ گئی۔ اس لیے مکہ معاہدے کی اصل آزمائش آنے والے دنوں میں ہوگی کہ تینوں ممالک کس طرح دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں، مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مؤثر بناتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کو استعمال کرتے ہیں۔

یہ پہلو بھی اہم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں ممالک نے حالیہ عرصے میں علاقائی امن، سلامتی اور باہمی مشاورت پر زور دیا ہے۔ جون 2026 میں مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے تعاون اور رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ سے آنے والی اس خبر کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

یہ صرف تین ملکوں کے درمیان ایک دفاعی دستاویز نہیں بلکہ بدلتی ہوئی دنیا میں مسلم ممالک کے باہمی تعاون کی ایک نئی کوشش بھی ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ کوشش خطے میں طاقت کے توازن کو کس حد تک متاثر کرتی ہے، دفاعی صنعت میں کتنی نئی راہیں کھولتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا یہ معاہدہ واقعی اس مقصد کو حاصل کر پاتا ہے جس کا ذکر تینوں ممالک کے رہنماؤں نے کیا ہے: امن، استحکام اور خوشحالی۔تاریخ ہمیں یہ سبق ضرور دیتی ہے کہ طاقت کا اصل حسن جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے کی صلاحیت میں ہے۔

اگر مکہ مکرمہ سے ہونے والا یہ معاہدہ واقعی امن اور دفاع کے اسی فلسفے کو آگے بڑھاتا ہے تو شاید اس کی سب سے بڑی کامیابی کسی جنگ میں فتح نہیں بلکہ کسی جنگ کو ہونے سے روک دینا ہوگی۔ اور شاید آنے والی تاریخ میں مکہ کا یہ معاہدہ اسی حوالے سے یاد رکھا جائے کہ ایک ایسے خطے میں جہاں طویل عرصے سے بارود کی بو محسوس کی جاتی رہی ہے، تین ممالک نے اجتماعی طاقت کو جنگ کے بجائے امن اور استحکام کی ضمانت بنانے کا عزم کیا تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default