پاک ، سعودی اور ترکی ۔ دفاعی اتحاد کی نئی سمت

پیووف آفیشل
0

از قلم : عدنان الیاس 

ریاض سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر پیش رفت سامنے آئی ہے جسے دفاعی اور سفارتی حلقے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔ اگر اس معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مجوزہ معاہدے پر کافی عرصے سے غور جاری تھا تاہم مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات نے اس عمل کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچا دیا۔ اس سے قبل بھی ترک حکام اور پاکستانی حکام مختلف مواقع پر اس نوعیت کے سہ فریقی دفاعی تعاون کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جو معاہدے یا سفارتی ملاقات تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والے برسوں کی علاقائی سیاست اور عالمی توازنِ طاقت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان متوقع مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ایک ایسی ہی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس پر عالمی سفارتی اور دفاعی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ صرف تین ممالک کے درمیان عسکری تعاون کا ایک نیا باب شروع ہوگا اور اسلامی دنیا میں دفاعی اشتراک کی ایک نئی جہت بھی سامنے آ سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی بحیرۂ احمر کی غیر یقینی صورتِ حال یوکرین جنگ کے اثرات اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے سے گزر رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دفاعی اتحاد ہمیشہ کسی نہ کسی بڑی ضرورت کے تحت وجود میں آئے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد نیٹو (NATO) کا قیام اس کے جواب میں وارسا معاہدہ خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور ایشیا میں مختلف اسٹریٹجک شراکت داریاں اسی حقیقت کی مثالیں ہیں کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ریاستیں اجتماعی سلامتی کو انفرادی دفاع پر ترجیح دینے لگتی ہیں۔

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات بھی محض سفارتی نوعیت کئی دہائیوں پر محیط مذہبی ثقافتی سیاسی اور عسکری روابط پر استوار ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ پاکستانی فوجی ماہرین اور تربیتی مشنز برسوں سے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں جب کہ دونوں ممالک انسدادِ دہشت گردی اور دفاعی مشقوں میں بھی شریک رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات بھی ہمیشہ گرم جوش رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کی ہے جب کہ حالیہ برسوں میں بحری جہازوں جنگی سازوسامان ڈرون ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ترکیہ نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی دفاعی صنعت میں غیر معمولی ترقی کرتے ہوئے خود کو اسلحہ درآمد کرنے والے ملک سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والی بڑی طاقتوں میں شامل کر لیا ہے۔ جنگی ڈرونز میزائل سسٹمز بکتر بند گاڑیاں بحری جنگی جہاز اور الیکٹرانک دفاعی نظام اس ترقی کی نمایاں مثالیں ہیں۔ پاکستان بھی دفاعی پیداوار میں ایک مضبوط مقام رکھتا ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر الفتح راکٹ سسٹم شاہین اور بابر میزائل پروگرام جدید بحری صلاحیتیں اور دفاعی صنعت میں بڑھتی ہوئی خود کفالت اسے اسلامی دنیا کی اہم عسکری قوتوں میں شمار کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان کا ایٹمی صلاحیت کا حامل ہونا بھی اس کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔ سعودی عرب اپنی معاشی طاقت سرمایہ کاری کی صلاحیت اور ویژن 2030 کے تحت دفاعی صنعت کو مقامی سطح پر فروغ دینے کی حکمتِ عملی پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اگر سعودی سرمایہ ترک ٹیکنالوجی اور پاکستانی عسکری تجربہ ایک مشترکہ فریم ورک میں جمع ہو جائیں تو یہ اشتراک دفاعی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ مشترکہ پیداوار عسکری تربیت مصنوعی ذہانت سائبر سیکیورٹی خلائی ٹیکنالوجی اور دفاعی جدت کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جنگیں معیشت سائبر اسپیس مصنوعی ذہانت ڈرون ٹیکنالوجی انٹیلی جنس اور معلوماتی برتری بھی قومی سلامتی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ اسی لیے جدید دفاعی معاہدے اسلحہ خریدنے یا فوجی مشقوں تک ہی نہیں بلکہ صنعتی تعاون سائنسی تحقیق اور طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر یہ دفاعی تعاون مستقل بنیادوں پر آگے بڑھتا ہے تو اس کے فوائد صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ مشترکہ دفاعی پیداوار سے اخراجات میں کمی آ سکتی ہے ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہوگی مقامی صنعت مضبوط ہوگی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور اسلامی دنیا دفاعی میدان میں بیرونی انحصار کم کرنے کی سمت آگے بڑھ سکتی ہے۔ البتہ ہر دفاعی اتحاد کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ کامیابی معاہدے پر مؤثر عمل درآمد باہمی اعتماد مسلسل سیاسی استحکام اور مشترکہ اہداف کے تعین سے حاصل ہوتی ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی معاہدے بھی ملتے ہیں جو کاغذوں تک محدود رہے کیوں کہ ان کے پیچھے مضبوط سیاسی عزم موجود نہیں تھا۔ اگر پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ اپنے اس تعاون کو مستقل ادارہ جاتی شکل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ اسلامی دنیا کے لیے دفاعی خود انحصاری مشترکہ تحقیق اور اجتماعی سلامتی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں اس نوعیت کے تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ متوقع معاہدہ عملی صورت اختیار کرتا ہے اور آنے والے برسوں میں کس حد تک تینوں ممالک کی دفاعی تکنیکی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تاریخ شاید اسے اکیسویں صدی میں اسلامی دنیا کے اہم دفاعی سنگ میلوں میں شمار کرے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default