ہیروشیما میں لگی آگ جو آج تک نہ بجھ سکی۔۔

پیووف آفیشل
0

 

از قلم : عدنان الیاس 

تاریخ بعض اوقات آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستقل تنبیہ بھی بن جاتی ہے۔ 6 اگست 1945 کے دن جب جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ نے لٹل بوائے نامی ایٹم بم گرایا۔ صرف تین دن بعد 9 اگست کو ناگاساکی پر فیٹ مین بم برسایا گیا۔ چند لمحوں میں دو آباد شہر راکھ کا ڈھیر بن گئے اور دنیا پہلی بار ایٹمی جنگ کی حقیقی ہولناکی سے آشنا ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ جرمنی شکست کھا چکا تھا مگر بحرالکاہل میں جاپان اور اتحادی افواج کے درمیان جنگ جاری تھی۔ امریکہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایٹم بم کے استعمال سے جنگ جلد ختم ہوگی اور مزید فوجی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ دوسری جانب متعدد مؤرخین عسکری ماہرین اور بین الاقوامی قانون کے ماہرین آج بھی اس فیصلے کو انسانی تاریخ کے سب سے متنازع اقدامات میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جاپان پہلے ہی شدید دباؤ میں تھا اور جنگ کے خاتمے کے دیگر راستے بھی موجود تھے۔

6 اگست کی صبح تقریباً 8 بج کر 15 منٹ پر امریکی بمبار طیارہ اینولا گے (Enola Gay) ہیروشیما کے اوپر پہنچا۔ چند لمحوں بعد ایک ایسا دھماکا ہوا جس نے شہر کی تقدیر بدل دی۔ اندازاً ستر سے اسی ہزار افراد فوراً جاں بحق ہوگئے جب کہ سال کے اختتام تک تابکاری شدید جھلسنے اور دیگر زخموں کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار تک جا پہنچی۔ ناگاساکی میں بھی ہزاروں زندگیاں چند لمحوں میں ختم ہوگئیں اور سال کے اختتام تک وہاں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً ستر ہزار تک پہنچ گئی۔ ایٹم بم کی تباہی صرف دھماکے تک محدود نہیں رہی۔ تابکاری نے برسوں تک زندہ بچ جانے والوں کا پیچھا کیا۔ کینسر خون کے امراض پیدائشی نقائص اور دیگر پیچیدہ بیماریوں نے لاکھوں خاندانوں کو متاثر کیا۔ جاپان میں ان متاثرین کو ہیباکوشا (Hibakusha) کہا جاتا ہے جو آج بھی دنیا کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ جنگ ختم ہو سکتی ہے، مگر اس کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ ان حملوں کے صرف چند دن بعد 15 اگست 1945 کو جاپان نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا اور دوسری عالمی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ مگر اس اختتام نے ایک نئی دوڑ کو جنم دیا جسے دنیا ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے نام سے جانتی ہے۔ امریکا کے بعد سوویت یونین برطانیہ فرانس چین اور دیگر ممالک نے بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کی اور یوں پوری دنیا کئی دہائیوں تک خوف کے سائے میں زندگی گزارتی رہی۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کا سانحہ جاپان کا قومی المیہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ دکھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال 6 اور 9 اگست کو دنیا کے مختلف ممالک میں ان جانوں کو یاد کیا جاتا ہے جو ایٹمی آگ کی نذر ہوئیں اور امن کے عزم کی تجدید کی جاتی ہے۔ آج دنیا ایک بار پھر مختلف جنگوں علاقائی تنازعات جدید میزائل نظام مصنوعی ذہانت سے لیس ہتھیاروں اور ایٹمی کشیدگی کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں ہیروشیما کی تاریخ ایک آئینہ ہے جس میں پوری انسانیت اپنا ممکنہ مستقبل دیکھ سکتی ہے۔ طاقت کا حقیقی اظہار ہتھیاروں کے انبار میں نہیں بلکہ ایسے فیصلوں میں ہے جو انسان کو زندہ رہنے کا حق دیں۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بنتی۔ اس کی قیمت صرف فوج ہی  نہیں بلکہ معصوم بچے خواتین بزرگ بستیاں اور آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں۔ اسی لیے امن انصاف برداشت مکالمہ اور بین الاقوامی تعاون ہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو ایک اور ہیروشیما سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

6 اگست ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ کیا انسان نے ماضی سے واقعی کچھ سیکھا ہے؟

اللہ تعالیٰ پوری دنیا کو جنگوں خصوصاً ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے اور انسانیت کو امن انصاف اور باہمی احترام کی راہ پر گامزن رکھے۔ آمین۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default