امریکی خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں سی آئی اے کے بعض مراکز پر ایرانی ڈرون حملوں کے بعد امریکی انٹیلیجنس ادارے اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا روس نے ان حملوں میں اہداف کی نشاندہی، انٹیلیجنس معلومات یا جدید ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر کے کوئی معاونت کی تھی۔ روئٹرز سے گفتگو کرنے والے امریکی انٹیلیجنس سرگرمیوں سے واقف چار ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا کہ ان حملوں میں روس کا براہِ راست کردار موجود تھا یا نہیں۔ تاہم امریکی حکام حملوں کی غیر معمولی درستگی اور ایران کو روس کی ممکنہ تکنیکی معاونت کو تحقیقات کا اہم پہلو قرار دے رہے ہیں۔ سی آئی اے کے سابق خفیہ آپریشنز افسر ڈینیئل ہوفمین کے مطابق ایران اور روس کے درمیان موجود قریبی اسٹریٹیجک تعلقات کے پیشِ نظر اگر ماسکو نے تہران کو امریکی انٹیلیجنس مراکز کے بارے میں معاونت فراہم کی ہو تو یہ غیر متوقع امر نہیں ہو گا۔ ان کے بقول دونوں ممالک اپنے اپنے خطوں میں امریکی اثر و رسوخ محدود کرنے میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اس سے قبل بھی یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ روس نے عمومی طور پر خطے میں امریکی اہداف سے متعلق ایران کو مختلف نوعیت کی معاونت فراہم کی تھی، تاہم سی آئی اے کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں روس کے ممکنہ کردار کے حوالے سے تحقیقات کی تفصیلات پہلی بار سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ کے دوران کم از کم دو سی آئی اے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں ایک سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کے اندر قائم سی آئی اے اسٹیشن جبکہ دوسرا مشرقی عراق میں واقع بتایا گیا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق مزید امریکی انٹیلیجنس مراکز بھی حملوں کی زد میں آئے، تاہم ان کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ خلیجی خطے میں تعینات دو مغربی اہلکاروں کے مطابق ابتدائی تجزیوں میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں حملے کے لیے ایران کے شاہد ڈرونز کا ایسا ورژن استعمال کیا گیا، جسے روسی تکنیکی معاونت سے مزید جدید بنایا گیا تھا۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس نے ایران کو کومیٹا-ایم سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم فراہم کیا، جسے دفاعی ماہرین ایرانی نظام کے مقابلے میں زیادہ درست اور الیکٹرانک جامنگ کے خلاف زیادہ مؤثر قرار دیتے ہیں۔ تاہم کریملن اس دعوے کی پہلے ہی تردید کر چکا ہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے سوالات سی آئی اے کو بھیج دیے، جبکہ سی آئی اے نے بھی جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کوئی مؤقف دینے سے انکار کیا۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن، روسی وزارتِ دفاع اور سعودی حکومت کی جانب سے بھی رپورٹ پر فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی حکام کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے روس کے ممکنہ کردار کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔ آئندہ آنے والی سرکاری معلومات اور تحقیقاتی نتائج اس معاملے کی مزید وضاحت کر سکتے ہیں۔

