اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے آسٹریا سے تعلق رکھنے والے وولکر ترک کو دوسری مرتبہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق منتخب کر لیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی مخالفت کے باوجود انہیں 144 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ 10 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا اور 13 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ وولکر ترک کی پہلی مدتِ ملازمت 11 اکتوبر 2026 کو مکمل ہو رہی تھی، تاہم تازہ ووٹنگ کے بعد وہ مزید چار سال تک اس منصب پر خدمات انجام دیں گے۔ اگر وہ اپنی دوسری مدت بھی مکمل کرتے ہیں تو 1993 میں اس عہدے کے قیام کے بعد مسلسل دو مکمل مدتیں پوری کرنے والے پہلے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر بن جائیں گے۔ دوبارہ انتخاب کے بعد وولکر ترک نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ رکن ممالک کے اعتماد پر بے حد شکر گزار ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ "انسانی حقوق آج کے پرآشوب اور غیر یقینی دور میں امید اور انصاف کا ذریعہ ہیں۔ میں دنیا بھر میں ہر انسان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتا رہوں گا۔" وولکر ترک اپنے دورِ ملازمت میں غزہ، لبنان اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد مواقع پر اسرائیل سے بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کرنے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جواب دہ ہونے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب اسرائیل نے ان کے مؤقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وولکر ترک کی قیادت میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے غیر جانب داری کا تقاضا پورا نہیں کیا۔ اسی طرح امریکا نے بھی ان کی دوبارہ تقرری کی مخالفت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وولکر ترک پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بیشتر حصہ اقوام متحدہ میں گزارا ہے۔ وہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) میں بھی مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ دریں اثنا انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے آزاد ماہرین غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جب کہ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

