افسانوی کہانی - بغداد کا درزی جو بغیر دھاگے کے سلائی کرتا تھا۔

پیووف آفیشل
0

انتخاب : شازیہ خلیل

عباسی خلافت کے سنہری دور میں بغداد کے مشہور بازار باب الطاق کے قریب ایک درزی رہتا تھا، جس کا نام عبد الرزاق الخیاط تھا۔ اس کے ہاتھ مضبوط، سوئیاں تیز اور اصول ان سب سے زیادہ مضبوط تھے۔ بغداد کے لوگ کہا کرتے تھے:

"وہ کپڑے سلائی کرتا ہے، مگر روحیں کھول دیتا ہے۔"

اس کی وجہ یہ تھی کہ عبد الرزاق ایک ایسے ضابطۂ اخلاق پر عمل کرتا تھا جسے نہ علما پوری طرح سمجھ سکے، نہ شعرا اور نہ ہی تاجر۔

اس کا پہلا اصول یہ تھا کہ غصے میں پھٹا ہوا کپڑا کبھی نہیں سیتا تھا۔

ایک روز ایک دولت مند تاجر ایک قیمتی جبہ لے کر آیا، جو جھگڑے کے دوران پھٹ گیا تھا۔ "اسے سی دو!" تاجر نے حکم دیا۔

عبد الرزاق نے نفی میں سر ہلایا اور بولا: "میں تو صرف قسمت کے زخم سیتا ہوں، بے وقوفی اور غصے سے لگنے والے زخم نہیں۔"

تاجر غصے میں آگ بگولا ہو گیا، مگر عبد الرزاق نے سکون سے جبہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:

"یہ تم نے غصے کی آگ میں پھاڑا ہے۔ پہلے اپنا دل جوڑو، پھر کپڑا۔"

تاجر جبہ لے کر واپس چلا گیا، مگر اس کا دل کپڑے سے زیادہ بکھرا ہوا تھا۔

اس کا دوسرا اصول یہ تھا کہ دل شکستہ لوگوں کے کپڑے مفت سیے جاتے تھے۔

ہر پیر کے دن، جسے وہ "یومِ غم" کہا کرتا تھا، بیواؤں، یتیموں اور دل شکستہ لوگوں کے کپڑے بغیر کسی معاوضے کے سی دیتا تھا۔ جب اس سے پوچھا جاتا کہ ایسا کیوں کرتا ہے تو وہ مسکرا کر کہتا:

"درد میں ڈوبا ہوا دل پھٹا ہوا لباس برداشت نہیں کر سکتا۔"

لوگ کہتے تھے کہ اس کی دکان سے صرف کپڑے ہی درست ہو کر نہیں نکلتے تھے، بلکہ غم بھی کچھ ہلکا ہو جاتا تھا۔

اس کا تیسرا اصول یہ تھا کہ جھوٹ کی سلائی کبھی نہ کرو۔

اگر کوئی شخص اپنے آپ کو حقیقت سے زیادہ امیر، باوقار یا نیک ظاہر کرنے کے لیے لباس بنوانے آتا تو عبد الرزاق اس کے کپڑے کو ہاتھ تک نہ لگاتا۔

ایک مرتبہ ایک نوجوان شاعر کرائے کا ریشمی جبہ پہن کر آیا اور اپنے آپ کو شہزادہ ظاہر کرنے لگا۔

عبد الرزاق نے اسے دیکھتے ہی کہا: "تم ریشم کا جبہ پہنے ہوئے ہو، مگر باتیں کپاس جیسی کر رہے ہو۔"

یہ سن کر شاعر شرمندہ ہو گیا اور سچ بول دیا۔ عبد الرزاق مسکرایا، اس کا جبہ مفت سی دیا اور کہا:

"ایک سچے شاعر کے لیے دھاگہ بھی سونا بن جاتا ہے۔"

ایک دن خلیفۂ وقت نے اسے محل میں طلب کیا۔

محل پہنچنے پر خلیفہ نے سیاہ جھنڈے کا پھٹا ہوا کنارہ دکھاتے ہوئے کہا: "اسے سی دو۔"

عبد الرزاق نے غور سے دیکھا، پھر پوچھا: "یہ ہوا سے پھٹا ہے؟"

خلیفہ نے جواب دیا: "ہاں۔"

عبد الرزاق نے ادب سے عرض کیا: "میں تو صرف انسانی غلطیوں کے زخم سیتا ہوں۔ ہوا کو اپنی امانت دار رہنے دیجیے۔"

خلیفہ اس جواب پر حیران رہ گیا، پھر مسکرا کر بولا: "اچھا، تو پھر میرے لیے ایسا جبہ سی دو جو مجھے بہتر انسان بننے کی یاد دلاتا رہے۔"

عبد الرزاق نے موٹے اون سے نہایت سادہ اور عاجزانہ جبہ تیار کیا۔

جب خلیفہ نے وہ جبہ پہنا تو بے اختیار کہہ اٹھا: "یہ جبہ میرے تکبر کی اصلاح ہزار مشیروں سے زیادہ کرتا ہے۔"

وقت گزرتا گیا، مگر عبد الرزاق کے اقوال بغداد کے اہلِ علم میں زبان زدِ عام ہو گئے۔ وہ کہا کرتا تھا: "دھاگہ کپڑا جوڑتا ہے، مگر سچ انسانوں کو جوڑتا ہے۔"

"پھٹا ہوا کپڑا آسانی سے سی لیا جاتا ہے، مگر پھٹی ہوئی شخصیت نہیں۔"

"اپنی آستین کا چھید درست کرنے سے پہلے اپنی روح کا چھید درست کرو۔"

یوں عبد الرزاق الخیاط صرف ایک ماہر درزی ہی نہیں رہا، بلکہ بغداد کی روایت میں حکمت، سچائی، انکساری اور اخلاق کا ایسا استعارہ بن گیا جس نے ہر جبہ کے ساتھ انسانوں کے دل بھی جوڑنے کی کوشش کی۔

نوٹ: یہ ایک ادبی، تمثیلی اور افسانوی کہانی ہے، جس کا مقصد اخلاقی اقدار، کردار سازی اور انسانی رویوں کی اصلاح کو علامتی انداز میں پیش کرنا ہے۔ اسے تاریخی واقعہ نہ سمجھا جائے۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
3/related/default